عراق میں 3 اڈوں سے امریکی فوج کا انخلا شروع

485

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) آیندہ چند ہفتوں میں امریکا عراق میں القائم اور دیگر 2 اہم اڈوں سے اپنی فوج نکال رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے عراق میں اپنے 8 میں سے 3 فوجی اڈے بند کرنے کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں اپنے فوجیوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی لانے کا خواہاں ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب عراقی حکومت اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی جاری ہے۔ رواں ہفتے القائم فوجی اڈے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں باضابطہ طور پر امریکی حکام ساز و سامان سمیت اڈے کو عراقی فوج کے حوالے کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی عراق میں شامی سرحد پر تمام تر امریکی موجودگی ختم ہو جائے گی۔ منگل کے روز امریکی اور عراقی فوجی حکام نے اس اڈے کا مشترکہ دورہ بھی کیا، جس میں اس کی حوالگی کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اڈا عراق کے قدیم ترین ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک کے مقام پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس کے قریب ہی دریائے فرات کے کنارے القائم نام کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ 2014ء میں داعش کے ہاتھ آنے والا یہ عراق کا پہلا علاقہ تھا اور 2017ء میں عراقی فوج نے یہ واپس لیا تھا، جو آخری علاقوں میں سے ایک تھا۔ داعش کے خلاف کامیابی کے بعد اس علاقے کو سرحد کے دونوں جانب ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ اگرچہ عراقی فوج اس علاقے میں موجود ہے، تاہم القائم کا علاقہ ابھی بھی ان ملیشیاؤں میں سے ایک پی ایم ایف کے زیراثر ہے۔ اس وقت عراق میں 5200 امریکی فوجی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان 3 اڈوں کے بند ہونے کے بعد کتنے واپس امریکا جائیں گے اور کتنے عراق میں ہی کہیں اور تعینات کیے جائیں گے۔