پاک فضائیہ کے بہادرسپوت ایم ایم عالم کی 7ویں برسی منائی گئی

167

کراچی(اسٹاف رپورٹر)دشمن کے دانت کھٹے کرنے والے پاک فضائیہ کے بہادرسپوت ایم ایم عالم کودنیا سے رخصت ہوئے 7برس بیت گئے ہیں، ایم ایم عالم کی جرأت اوربہادری پرانہیں ستارہ جرأت سے نوازاگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم کی 7 ویں برسی بدھ کے روز عقیدت اور احترام سے منائی گئی ہے، محمد محمود عالم6جولائی 1935ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے، ثانوی تعلیم 1951ء میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکا (سابقہ مشرقی پاکستان) سے مکمل کی اور 1952ء میں پاکستان ائرفورس میں شامل ہوئے،2 اکتوبر 1953 ء کو کمیشنڈ عہدے پرفائز ہوئے، ان کے بھائی ایم شاہد عالم نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر جبکہ ایک بھائی ایم سجاد عالم البانی میں طبعیات دان تھے۔پاک فضائیہ کی تاریخ کا درخشندہ ستارہ محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ایسی تاریخ رقم کی جو ہمیشہ یادرکھی جائے گی۔پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر5 بھارتی ہنٹر جنگی طیاروں کوایک منٹ کے اندراندر مارگرایا تھا ، جن میں سے 4 ابتدائی 30 سیکنڈ کے اندر مارگرائے گئے تھے ،یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔اس جنگ کے دوران ایم ایم عالم نے مجموعی طورپر دشمن کے9 طیارے مارگرائے اور 2 طیاروں کو شدید نقصان پہنچایا، ان کا یہ کارنامہ نہ صرف پاک فضائیہ بلکہ جنگی ہوا بازی کی تاریخ کا بھی ایک معجزہ تصورکیا جاتا ہے۔وطن کے اس عظیم ہیروکو ان کے تاریخ ساز کارنامے پر 2 مرتبہ ستارہ جرأت کا اعزاز عطاکیاگیا جبکہ لاہور کے علاقہ گلبرگ میں ایک اہم سڑک کا نام ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا ہے۔ 1967ء میں ایم ایم عالم کا تبادلہ بطوراسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوئم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا، جو کہ پاکستان ائرفورس نے بنایا تھا جبکہ 1969ء میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ 1972ء میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت 2 مہینے کے لیے کی اور 1982 ء میں ریٹائر ہو کرکراچی میں قیام پذیرہوئے، قوم کے قابل فخر سپوت ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 ء کوکراچی میں 78 برس کی عمر میں دنیائے فانی سے کوچ کرگئے ، انہیں ماڑی پور میں پی اے ایف بیس مسرور کے شہدا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ہے۔