اوقاف اراضی کیس،164 کا بیان ریکارڈ کر انے کی در خواست مسترد

149

ساہیوال(آن لائن)سینئر سول جج جوڈیشل عاطف بن سعید نے سابق وزیرا عظم نواز شریف کے خلاف 14ہزار کنال اوقاف کی اراضی الاٹمنٹ کیس میں اس وقت کے سابق وزیر اعلیٰ نواز شریف کے (ر) پرنسپل سیکرٹری جا وید اقبال بخاری کا 164ضابطہ فوجداری کے تحت بیان ریکارڈ کر انے کی اینٹی کر پشن کی در خواست مستردکر دی۔1986ء میں اسی وقت کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف کو دیوان غلام قطب الدین گدی نشین پاکپتن مزار بابا فرید الدین نے محکمہ اوقاف کی سرکاری تحویل میں لی گئی 14ہزار کنال اراضی واپس دینے کی در خواست پروزیرا علیٰ نے سمری منگوائی جبکہ اس وقت کے سیکرٹری ا وقاف محمد یوسف نے درخواست مسترد کر نے کی استدعا کی کیونکہ سیشن کورٹ ساہیوال اور ہائیکورٹ لاہور محکمہ اوقاف کے حق میں فیصلہ کر چکا ہے اس لیے اراضی واپس نہیں دی جا سکتی لیکن سابق وزیر اعلیٰ نواز شریف نے محکمے کے موقف کو پس پشت رکھ کر 14ہزار کنال اراضی مالیت اربوں روپے دیوان غلام قطب الدین کو واپس دینے کا حکم د یا تھا اور یہ اراضی غلام قطب الدین کو دے دی گئی جس کا مقدمہ انٹی کر پشن ساہیوال ریجن نے درج گز شتہ برس سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف درج کرا دیا تھا اورا س مقدمے کے مین کردار اس وقت کے سیکرٹری اوقاف محمد یوسف وفات پا چکے ہیں جب کہ سابق پر نسپل سیکرٹری اقبال بخاری نے شامل تفتیش ہو کر سابق وزیر اعلیٰ کے اس غیر قانونی اقدام کی نشاندہی کی ۔