کے الیکٹرک کو یکشمت آئی ایس پی اے چارجز وصولی سے روکا جائے،کراچی چیمبر

234

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )کراچی چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی ) صدر آغا شہاب احمد خان نے کرونا وائرس کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے اور اقدامات تجویز کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کمیٹی قائم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تاجربرادری معیشت کی بحالی کے لیے وزیراعظم کے عزم اور برآمدات و کاروبار پر بہت زیادہ اثرانداز ہونے پر تشویش کے اظہار کو سراہتی ہے لیکن کے الیکٹرک کی جانب سے حالیہ غیرمعمولی اقدام وزیراعظم کی یقین دہانیوں کے بالکل برعکس ہے جس میں کراچی کی صنعتوں سے انڈسٹریل سپورٹ پیکیج ایڈجسٹمنٹ ( آئی ایس پی اے) کا مطالبہ کیا گیاہے ۔ایک بیان میں آغا شہاب نے کے الیکٹرک کی جانب سے آئی ایس پی اے کے یکمشت مطالبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیرتوانائی عمر ایوب خان پر زور دیا کہ وہ کے الیکٹرک کو اس مطالبے سے باز رکھیں کیونکہ کراچی کی تاجربرادری دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ سے عالمی شٹ ڈاؤن کے باعث پہلے ہی شدید بحرانوں سے دوچار ہے۔انہوںنے نشاندہی کی کہ کرونا وائرس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ جام ہو گیا ہے اور پاکستان کی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں اسی لیے ان حالات میں کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کی صنعتوں سے آئی ایس پی اے چارجز کا یکمشت مطالبہ غیرمناسب ہے جس کو پوری تاجروصنعتکار برادری نے افسوسناک قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ یکمشت آئی ایس پی اے کا مطالبہ غیرمنصفانہ ہے کیونکہ جولائی تا دسمبر2019کے دوران ملنے والے آئی ایس پی کے تحت مصنوعات تیاری کے بعد فروخت کی جاچکی ہیں جوکہ صنعتی صارفین کے لیے ایک سپورٹ پیکیج تھا جسے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کیے بغیر واپس نہیں لیا جاسکتا۔انہوںنے کہاکہ دنیا بھر میں سست روی اور معاشی سرگرمیوں کی بندش، امریکا، یورپی یونین سمیت دیگر بڑی منڈیوں سے شپمنٹ کی ترسیل و آمد میں تاخیر اور کلیئرنس میں سست روی کے باعث پاکستان میں برآمدات ودرآمدات کا کاروبار بری طرح متاثر ہو اہے جبکہ غیر ملکی خریداروں سے ادائیگیاں بھی رک گئی ہیں جس کے نتیجے میں صنعتکاروں کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔مزید برآں مقامی طلب میں بھی بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے جس نے سیکڑوں صنعتوں کے لیے ایک انتہائی مشکل صورتحال پیدا کردی ہے جنہیں اپنے اخراجات کو پورا کرنے اور ہزاروں ملازمین کو تنخواہیں دینے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ایسے حالات میں کے الیکٹرک کی جانب سے صنعتی صارفین سے یکمشت آئی ایس پی اے چارجز کا مطالبہ کسی بم سے کم نہیں جس سے کئی صنعتیں باالخصوص چھوٹے صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں مکمل طور پر تباہ ہوجائیں گی جو پہلے ہی کسی نہ کسی طرح فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز بمشکل ادا کرپارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئی پی ایس اے چارجز کے اضافے کے ساتھ بجلی کے بل ناقابل برداشت ہیںجو کہ سیکڑوں صنعتیں ادا نہیں کرپائیں گی۔صنعتوں اور فیکٹریوں کے بند ہونے سے انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوگی اور ہزاروں افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جون 2019 میں آئی ایس پی اے چارجز کے نفاذ کا فیصلہ کیا تھا اور سوائے کے الیکٹرک تمام ڈسکوز نے یکم جولائی 2019سے عمل درآمدکیا تھا۔کیا کے الیکٹرک اس وقت سو رہا تھا اسے بھی فوری طور پر عمل درآمد کرنا چاہیے تھا تاکہ صنعتیں نے عام حالات میں ہی ماہانہ بنیاد پر ان چارجز کی ادائیگیوں کی حکمت عملی تیار کرلیتیں۔گزرے مہینوں کے جمع ہونے والے آئی ایس پی اے کا یکمشت مطالبہ انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ صنعتیں اتنے زیادہ مالی بوجھ کی متحمل نہیں ہوسکتیں باالخصوص جب دنیا بھر میں اور پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے معاشی و صنعتی سرگرمیاں منجمد ہوگئی ہیں۔آغا شہاب نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہاکہ صنعتی صارفین کے لیے اتنے بھاری چارجز ادا کرنا ناممکن ہے جسے فوری طور پر واپس لیا جائے بصورت دیگر تاجروصنعتکار برادری کے الیکٹرک کے غیر منصفانہ مطالبے پر احتجاج کرے گی کیونکہ اس سے صنعتیں خاص طور پر چھوٹے درجے کی صنعتیں اور فیکٹریاں بند ہوجائیں گی۔