شرح سود میں معمولی کمی مایوس کن ہے،سنگل ڈیجیٹ کیا جائے،انجم نثار

203

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے کہاکہ شر ح سو د کو سنگل ڈیجٹ تک کم کرنے کی کئی وجوہا ت ہیں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں اور افراط زر میں بھی مزید کمی آرہی ہے لہذا شر ح سود میں بھی کمی ہو نا چا ہیے تھی جو کہ موجو دہ عالمی صورت حال کا مطا لبہ ہے اور تجا رت و قومی معیشت کے تحفظ کے لے بھی ضروری تھا ۔ میاں انجم نثار نے کہاکہ یو رپ معا شی حالا ت کی وجہ سے پاکستان کی تجا رت بھی متا ثر ہو رہی ہے جن جن سے یو رپی ممالک میں ہما ری بر آمدات زیادہ ہو رہی تھی وہا ں کرونا وائرس کی وجہ سے بر آمدات متا ثر ہیں ۔ امریکہ میں بھی حالا ت سنگین ہیں ۔ امریکہ میں بھی اس وقت حالا ت ٹھیک نہیں ہے جسکی وجہ سے پاکستا ن کی ٹیکسٹائل اور دوسرے اشیا ء کی برآمدات متا ثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہو ں نے مزید کہاکہ حریف منڈ یو ں میں بحرا ن نے پاکستان کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی بر آمدات کو بڑھا ئیں لیکن پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مو جو دہ صورتحال میں پاکستان کو بھی دیگر ممالک کی طرح کا روباری سر گر میوں کو بڑھانے کے لیے اقدامات کر نے چا ہیے ۔ جرمن حکومت ایک ہنگا می فنڈزپر غور کر رہی ہے جس کا مقصد چھوٹی اور درمیانے در جے کی صنعتو ں کی مدد کرنا ہے ۔ میاں انجم نثار نے مزید کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ پالیسی ساز، مرکزی بینک اور معیشت دان فعال معاشی پالیسیا ں تر تیب دیں اور کا روبار سر گرمیوں کی بحالی صنعتکاری کے لیے اعتماد بحال کر یں تا کہ لا کھو ں لو گو ں کو روزگار ملے حکومت کو چا ہیے کہ معاشی معاونت کے لیے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیو ں سے بات چیت کر ے کہ پاکستان کو معاشی استحکام دیں کیونکہ ہمارے وسا ئل محدود ہیں اس کے علاوہ حکومت کو چا ہیے کہ کا روباری لا گت کو کم کرنے اور صنعتو ں کو خام مال کم قیمت پر فراہم کر ے۔ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیا ں تر تیب دے جو معا شی بحرا ن میں معا شی سر گر میوں کی حما یت کر یں اور ما نیٹر ی پالیسی پر دوبارہ نظر ثانی کر ے اور شر ح سود کو ما رکیٹ طلب کے مطابق 300بیسک پوائنٹ تک کم کر ے ۔کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) شیخ عمر ریحان اور کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی اصلاحات سینیٹر عبدالحسیب خان نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میںپوائنٹ 75پوائنٹس کمی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اس میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ شیخ عمر ریحان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معیشت کی سست روی سے پیدا ہونے والے بحران کو مدنظر رکھا جائے تو اسٹیٹ بینک کا فیصلہ انتہائی مایوس کُن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں ایک جانب حکومتیں اور عالمی مالیاتی ادارے گرتی ہوئی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے پیکجز کا اعلان کررہے ہیں اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں ناقابل ذکر کمی سے ملک کی صنعتکار کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا وزیر اعظم پاکستان عمران خان اس صورت حال کو نوٹس لیں اور صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے شرح سود میں کو یک ہندسی کیا جائے۔ سینیٹر عبدالحسیب خان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت جس شدید دبائو کا شکار ہے اس کا ادراک کرنے کے بجائے ایک ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو نہ ہی صنعتوں کے لیے معاون ثابت ہوگا اور نہ ہی موجودہ معاشی صورت حال میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی شرح نمو 2% سے کم ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ صنعتیں یا تو بند ہوچکی ہیں یا بند ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میںاس شرح سود کے ساتھ صنعتیں اپنا کام جاری کرنے کے قابل نہیں رہیں گی جس میں لاکھوں افراد کے بے روزگارہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر غریب تک روٹی ، دوا نہیں پہنچا سکتی اس کے لیے کاروبار اور معیشت ہی کو سہارا دینا واحد حل ہے۔ انہوں ںے مزید کہا کہ بیشتر ممالک شرح سود میں کمی لاکر کاروباری اداروں کو بچا رہے ہیں جبکہ پاکستان میں اس کے برعکس معمولی کمی کا مایوس کُن فیصلہ کیا گیا ہے اسے فوری تبدیل کیا جائے۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور فیڈریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بینکنگ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی نے اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں صرف 75 بیسز پوائنٹ یعنی 12.5 فیصدکی معمولی کمی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے کیونکہ بزنس کمیونٹی کا کم از کم 200بیسز پوائنٹ یعنی پالیسی ریٹ 11.25 فیصد کرنے کا مطالبہ تھا۔ ڈاکٹر بیگ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے انہوں نے اپنی حالیہ ملاقاتوں میں ملکی معیشت کی بحالی کیلئے بینکوں کے لینڈنگ ریٹس میں فوری کمی کا مطالبہ کیا تھا بالخصوص جب دنیا کے 20 سے زیادہ مرکزی بینکوں نے کورونا وائرس کے معاشی بحران کے مدنظر اپنے ریٹس میں کمی کی ہے جس میں امریکہ کا فیڈرل ریزرو بینک بھی شامل ہے ۔