مشکل فیصلوں کے باوجود صنعتکار برادری حمایت کرتی ہے،معز خان

138

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آ ف ٹریڈ اینڈانڈسٹری ( نکاٹی) کے سرپرست ِ اعلیٰ ، کیپٹن اے معیز خان اورصدر نسیم اخترنے کرونا وائرس کی وبا پر قابوپانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ویژن اور اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل فیصلوں کے باوجودصنعتکار برادری ان کی بھرپور حمایت کرتی ہے مگر ساتھ ہی ملک میں جاری اقصادی بحران کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک طرف کرونا وائرس کا بم صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں کو تباہ کررہاہے اور ملکی معیشت انتہائی دباؤ کا شکار ہے تو دوسری طرف یوٹیلیٹی خدمات فراہم کرنے والے ادارے باالخصوص کے الیکٹرک صنعتوں کو برباد کرنے پر تلی ہے۔نکاٹی کے رہنماؤں نے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ٹیکسوں کے سلیب اورزائد شرح کی وجہ سے پیداواری لاگت میں پہلے ہی حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں برآمدی صنعتوں کے لیے غیر ملکی آرڈرز کی تکمیل دشوارہوگئی ہے اور اب تو ہماری صنعتیںپڑوسی ممالک سے مقابلہ کرنے کی سکت بھی کھوتی جارہی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کروناوائرس کی روک تھام کے لیے بلاشبہ تسلی بخش اقدامات کیے ہیں حالانکہ ہمارا ملک اس قسم کے اقدامات کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں لوگوں کی اکثریت روزانہ کما کر اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتی ہے لہٰذاکاروباری سرگرمیاں منجمد کرنے والے اقدامات سے عوام کو معاشی طور پر متاثر ہونے سے بچانے کی حکمت عملی بھی وضع کرنا ہوگی۔انہوںنے مزید کہاکہ موجودہ حالات میں حکومت صنعتوں کوآسانیا ںفراہم کرنے کے بجائے صنعتکار وں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے جس کی تازہ مثال انڈسٹریل سپورٹ پروگرام کے تحت دیا جانے والا رعایتی بجلی ٹیرف واپس لینا ہے ۔ کے الیکٹرک نے رعایتی ٹیرف کی مد میں 3سال کے یکمشت بقایاجات کے سپلیمنٹری بل صنعتوں کو بھیجے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک صنعتوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا چاہتی ہے۔کیپٹن اے معیز خان اور نسیم اخترنے حکومت ِ پاکستان باالخصوص وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کو تباہی سے بچانے اور ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے انڈسٹریل سپورٹ پروگرام جاری رکھا جائے اور صنعتوں کو بھیجے گئے سپلیمنٹری بل منسوخ کیے جائیں اوریوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کی تاریخ میں بھی ایک ماہ کی توسیع کی جائے۔