گلوبلائزیشن یوں بھی ہوتی ہے

545

کورونا کا رونا اب ’’میرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا‘‘ کے انداز میں اب کسی ایک قوم اور ملک کا نہیں سارے گلستان اور جہان کا رونا بن گیا ہے۔ یہ موذی وائرس دنیا کو گلوبلائزیشن کے اصل اور فطری انداز کا بھولا ہوا سبق ایک بار پھر یاد کرا گیا۔ وائرس آندھی کی طرح چین کے ایک شہر سے نمودار ہوا اور اب بگولہ بن کر پھر زمان ومکان کی پابندیوں کو توڑتا ہوا ملکوں ملکوں تباہی پھیلاتا چلا جا رہا ہے۔ نہ مذہب کا خیال کیا نہ ملکوں کی سرحدوں کا پاس بس آگے اور آگے بڑھتا چلا گیا اور اب تک ایک سو باسٹھ ملکوں کی دہلیز پار کر چکا ہے۔ دنیا کو یہ احساس دلاگیا کہ کرہ ٔ ارض کا وجود اس کائنات کی پہلی اور انسانیت دوسری بڑی حقیقت ہے۔ دنیا اس بنیاد سے کبھی کی ہٹ چکی ہے۔ کرہ ارض کے ماحول اور وجود کو انسانوں نے نت نئی ایجادات سے جس طرح خطرے میں مبتلا کیا ہے اس کا احساس دیر سے سہی مگر دنیا کو ہو گیا ہے۔ اس وقت انسانی زندگی اور ماحول کو لاحق خطرات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ انہیں مکمل طور پر پچھاڑنا اب آسان نہیں رہا۔ اسی طرح نت نئے ہتھیار بنا کر، وسائل کی چھینا جھپٹی میں لگ کر انسانوں کو جس طرح مختلف خانوں میں بانٹا گیا ہے وہ بھی ایک لمحہ فکر ہے۔ جس طرح ایک مقام پر انسانوں کے حقوق کے نعرے بلند کرکے دوسرے مقام پر انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹا گیا ہے وہ بھی انسانیت کا رشتہ اور سبق بھلا دینے کا نتیجہ ہے۔ اب مشرق سے مغرب تک ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے انسانوں میں خوف کی ایک لہر پیدا کر کے ان میں زمین زاد اور انسان ہونے کے مشترکہ رشتے کو بحال اور زندہ کیا ہے۔ یوں گلوبلائزیشن کا ایک فطری انداز سامنے آیا ہے۔
ہمارے ہاں بھی کورونا نے قومی یک جہتی کی فضاء پیدا کر دی ہے اور کتنا اچھا ہو کہ ہم آفات، حادثوں اور جنگوں کا انتظار کرنے کے بجائے مثبت انداز سے یک جہت اور یکجان ہونا سیکھ لیں۔ حکومت پاکستان نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق یوم پاکستان کی پریڈ اور دیگر تمام تقریبات کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ تمام تعلیمی اداروں اور مدارس کو پانچ اپریل تک بند کر دیا گیا ہے۔ ایران وافغانستان کے ساتھ سرحدوں کو دو ہفتے کے لیے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے مختلف اداروں پر مشتمل نیشنل کوآرڈینیش کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ وزرات صحت میں نیشنل کمیونیکیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ملک کے صرف تین ائرپورٹس کراچی، لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل فلائٹس کے لیے کھلے رہیں گے باقی تمام ائرپورٹس بیرونی پروازوں کے لیے بند رہیں گے۔
ہمارے ہاں کورونا کے کیسز کے بڑھتے کے جارہے ہیں۔ چین سے یورپ کی طرف منتقل ہوتا ہوا کورونا وائرس ایک عالمگیر وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چین کے ایک شہر سے پھوٹ پڑنے والی یہ وبا اور انفلونزا جیسی معمولی بیماری کی بگڑی ہوئی شکل اب ایک عالمی دیو بن کر نظام حیات کو تلپٹ کر تی جا رہی ہے۔ مغرب اور یورپ کے جن ملکوں میں دن اور راتیں ہمہ وقت روشنیوں میں نہاتے ہیں اب ویران ہورہی ہیں۔ یورپ کے عشرت کدوں کی بتیاں گُل ہو رہی ہیں۔ رنگ ونور میں نہاتے ہوئے ساحل انسانوں کی دید کو ترس رہے ہیں۔ کورونا کا خوف تو اپنی جگہ غذائی قلت اور قحط کا خوف بھی مغربی ذہنوں کو اپنی گرفت میں لیتا جا رہا ہے امریکا جیسے ’’مہذب‘‘ ملک میں لوگ اسی خوف کے باعث خوراک کے ساتھ اسلحہ بھی ذخیرہ کر رہے ہیں کہ مبادا قحط کے باعث لوٹ مار اور چھینا جھپٹی شروع ہوجائے۔ تعلیمی اداروں اور بازاروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ اسپتالوں میں ہنگامی حالات نافذ ہیں۔ سرحدیں سیل ہو رہی ہیں۔ ہمہ وقت فضائوں میں محو پرواز جہازوں کی حرکت رک چکی ہے۔ کئی ملکوں میں خوف کے باعث لوگ پارکوں، قہوہ خانوں، دفتروں، عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں سے منہ موڑ کر گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔ آزاد اور کھلے معاشروں میں ایک طرح کا سول کرفیو نافذ ہو چکا ہے۔ ہم تو ان اصطلاحات کی لذت آشنائی رکھتے ہی تھے مگر جن کی نسلیں آزاد بلکہ مادر پدر آزاد پیدا ہوئیں انہیں کورونا نے لاک ڈائون اور سول کرفیو کے انداز اور حقیقی مفہوم سے آشنا کیا ہے۔ کئی ملکوں کے اعلیٰ حکام بھی اس وائرس کا شکارہو چکے ہیں۔ حد تو یہ کہ مذہبی رسوم اور فرائض بھی کورونا کی ہلاکت خیزیوں کے خوف سے متاثر ہو رہے ہیں۔ سعودی حکومت کے حفاظتی اقدمات میں عمرہ کی عبادت بھی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایران میں زیارات کا سلسلہ رک گیا ہے۔ چین کے صدر مسجد جاپہنچے اور نمازی ٹوپی پہن کر مسلمانوں سے دعا کی اپیل کی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مسلمانوں سے دعائوں کی اپیل کی ہے۔ کویت میں اذان میں وقتی طور پر تبدیلی کی گئی ہے اور نمازیوں کو مسجد کی طرف بلانے کے بجائے گھروں میں نماز کی ادائیگی کا کہا جا رہا ہے۔ عالمگیر دینی اجتماعات اور عبادات کے بعد اب گلی محلوں کی مساجدکی عبادات اور سماجی تقریبات پربھی کورونا کا خوف اثر انداز ہونے لگا ہے۔
کورونا کے مقابلے کے لیے جہاں حفاظتی اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے وہیں ترقی یافتہ ملکوں کے سائنس دان لیبارٹریز میں سر جوڑ کر وائرس کا توڑ تلاش کرنے میں جُت گئے ہیں۔ گوکہ کورونا کا ظہور اب بھی ایک معما ہے مگر اس کے ڈانڈے امریکا اور چین کی عالمی اقتصادی اور سیاسی مسابقت سے ملنے لگے ہیں۔ چین کی طرف سے اب ایسی رپورٹس آنے لگی ہیں جن میں کورونا وائرس کو حیاتیاتی حملہ ثابت کیا جانے لگا ہے۔ بہرحال امریکا اور چین کی عالمی مسابقت اور مقابلے نے جو شکل اختیار کی ہے اس میں کورونا کا حیاتیاتی حملہ ہونا قطعی بعید از قیاس نہیں۔ امریکا نے چین کی ترقی اور مستقبل کو اپنے اعصاب پر سوار کرلیا ہے اور وہ ہر قیمت پر اس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اس ساری صورت حال میں حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے بھی ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے۔ اس حوالے سے جہاں حکومتوں کی ذمے داری اہم ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ عوام کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ عوام حفاظتی اقدامات اپنا کر یہ تعاون کر سکتے ہیں۔ عوام کو اپنی ذمے داری محسوس کرتے ہوئے خوف وہراس اور حواس باختگی کا شکار ہوئے بغیر شعوری طور پر حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ ایک عالمگیر وبا ہے اور اس کا مقابلہ بھی اتنی ہی قوت اور سرعت کے ساتھ کرنا ہوگا۔