کورونا کا پھیلاؤ، امریکی انسانی حقوق کے دعووں کے لیے نئی آزمائش

503

احمد محمدی قونصل جنرل ایران،کراچی
دنیا کے اکثر علاقوں میں مہلک وائرس کورونا کے پھیلائو نے مختلف ممالک کے عہدیداران اور عوام کو اس مہلک وائرس کو کنٹرول کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ حکومتوں کی کوشش یہ ہے کہ صحت سے متعلق خصوصی بجٹ مختص کرکے اس مہلک وائرس کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے معاشی خسارے کا ازالہ کیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کورونا کے سب سے زیادہ نقصانات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ حکومت اور ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے دن رات اس وائرس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے باوجود میری قوم اور دنیا کی باقی قوموں کی کوشش میں ایک خاص فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ ایران کے عوام کو تاریخ کی سب سے شدید اور ناحق قسم کے معاشی اور طبی دہشت گردی کا سامنا ہے جو غیرقانونی طور پر مئی 2018 سے امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لگائی گئی ہیں۔
بے شک ایران کی طبی سہولتوں، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور صحت کے دیگر ماہرین دنیا کے بہترین لوگوں میں سے ہیں، لیکن ان کی کورونا کو روکنے اور شکست دینے نیز بیماروں کا علاج کرنے کی راہ میں ٹرمپ سرکار کی جانب سے رکاوٹ کا سامنا ہے، لہٰذا ایران کے عوام کو کورونا کیخلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ اس حکومت سے بھی لڑنا ہے جو کھوکھلے انسانی حقوق کے دعووں کے علاوہ انسانی حقوق کے صحت جیسے بنیادی اصول کو نظرانداز کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پاکستانی بھائیوں کو ٹرمپ سرکار کے ایرانی عوام کے ساتھ ظالمانہ رویوںکا پورا علم ہے، یہاں اس کھلے ظلم کے دو پہلووں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تاکہ تاریخ میں ثبت ہوں: پہلا پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ سرکار کی غیرقانونی پابندیوں نے ایرانی تیل اور دیگر اشیاء کی برآمدات اور اس سے زرمبادلہ کے حصول نیز مختلف اجناس کی درآمدات کو بہت مشکل اور محدودکردیا ہے، جس کی وجہ سے حکومتی اور پرائیوٹ سیکٹرز جو ایرانی عوام تک ضروری اشیاء پہنچاتے ہیں اور ان کو طبی اور علاج کی سہولتیں فراہم کرتے ہیں کمزور پڑ چکے ہیں۔ اس لیے میرے ملک کی وہ قوت جو اپنے عوام کی بقا کا ضامن ہے کمزور پڑگئی ہے، یہ انسانی حقوق کے بنیادی اصول سے مکمل تضاد رکھتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ سرکار کی غیرقانونی پابندیوں نے ایرانی کمپنیوں کی دوائی اور طبی سہولتوں کی درآمد کی غرض سے کی گئی کوششوں کو تقریباً ناممکن بنادیا ہے اور اگر کوئی غیرملکی کمپنی ایران کو ضروری اشیاء بیچنے پر تیار ہو اور ہم ملک سے باہر اپنی دولت سے اس کی قیمت چکانا چاہیں تو بھی ٹرانسپورٹ، انشورنس اور بینکوں سے متعلق امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایسی تجارت کا امکان معدوم ہوجاتا ہے۔ یہ ظالمانہ فعل، وہ بھی ان سخت حالات میں، انسان دوستی کے تمام اصولوں کے منافی ہے اور انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے، گو کہ ممکن ہے مستقبل میں تمام حریت پسند اقوام کو اس کا سامنا کرنا پڑے۔
ٹرمپ سرکار کی انسانی حقوق کی عدالت میں شکست اس وقت زیادہ آشکار ہوگی جب معلوم ہو کہ اس نے کھلے عام ایرانی عوام تک دوائیاں پہنچانے کے عمل کو یرغمال بناکر دوائیوں کی فروخت کو اپنی غیرقانونی اور غیر متعلقہ مطالبات سے مشروط کردیا ہے۔ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ سرکار پوری ایرانی عوام کو سزا دینے کی سیاست پر گامزن ہے۔ اس ملک کے وزیر خارجہ کے بقول ’’ایران کے عوام کو اگر بھوکا نہیں رہنا ہے تو ان کی حکومت کو ہمارے احکامات ماننا پڑیں گے‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حکومت جو ایرانی عوام کے کورونا کے خلاف جدو جہد کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے اور میری حکومت کی عوام کی جان کی حفاظت کے لیے ضروری مالی اور طبی سہولتوں کو فراہم کرنے کی طاقت کو کم کرنے کا ذمے دار ہے، ہمیں وائرس کو کنٹرول کرنے کے بارے میں واعظ تو دیتی ہے، لیکن عملی طور پر رکاوٹ کھڑی کرنے (شرارت انگریزی) اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کے مہم کو جاری رکھا ہوا ہے۔
مندرجہ بالا مواد کی رو سے امریکی حکومت کو چاہیے تھا کہ معزز پاکستانی بھائیوں اور دنیا کے عوام کے ضمیر کی عدالت میں مزید مکروہ نہ ہونے کے لیے فوری طور پر ایران کے عوام کے خلاف اپنی معاشی اور طبی دہشت گردی بند کرے اور میرے ملک کے خلاف ان تمام پابندیوں کو جو غیرقانونی طور پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عائد کی گئی ہیں کو ہٹائے۔ اسی طرح دنیا کے تمام ممالک سے چاہتا ہوں کہ یک طرفہ اور مندرجہ بالا قرارداد کے منافی پابندیوں کی پیروی نہ کریں اور ساتھ میں ٹرمپ سرکار کی پالیسی کی خلاف کھلے عام آواز اٹھائیں۔ آخر میں پاکستان اور نیز صوبہ سندھ کی حکومت اور عوام کی کورونا کے خلاف لڑائی اور کامیابی کے لیے دعاگو ہوں اور یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا ملک امریکا کی تمام رکاوٹوں اور ظالمانہ دباؤ کے باوجود، ہمیشہ کی طرح تمام مسلمان اقوام کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے۔ امید کرتا ہوں امریکا اور دنیا کے تمام عوام اس مہلک وائرس کو فوری طور پر کنٹرول کرنے اور اپنی نارمل روٹین کی زندگی میںلوٹنے میں کامیاب ہوںگے۔ ایران اور پاکستان کی عوام کی دوستی اور بھائی چارگی زندہ باد۔