فلو سے دنیا بھر میں ساڑھے6لاکھ ہلاکتیں۔جنگی اقدامات کورونا کیخلاف‘ ماہرین حیران

396

کراچی (رپورٹ: مسعود انور) کورونا کے نام پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں کیے جانے والے غیر معمولی اقدامات اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اسے عالمی وبا قرار دیے جانے پر ماہرین حیران ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلو کی تباہ کاریاں کورونا سے کہیں زیادہ ہیں مگر کسی بھی حکومت یا عالمی ادارہ صحت نے ایسے اقدامات نہیں کیے جو کورونا کے بارے میں کیے گئے ہیں۔ امریکی ادارے سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی ) کے اعدادو شمار کے مطابق اب تک امریکا میں مجموعی طور ساڑھے 5 ہزار افراد میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری پائی گئی ہے جبکہ گزشتہ 3 ہفتوں میں ہونے والی اموات کی تعداد صرف 101 ہے۔ اس کے مقابلے میں سی ڈی سی کے ہی اعداد وشمار کے مطابق رواں سیزن میں فلو سے امریکیوں کے مرنے کی تعداد 138 تا 346 افراد یومیہ ہے جبکہ فلو سے متاثر ہونے والوں کی یومیہ تعداد 2 لاکھ 26 ہزار تا 3 لاکھ 21 ہزار ہے۔ سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں یکم اکتوبر 2019 ء سے 7 مارچ 2020ء تک فلو سے متاثرہ افراد کی تعداد کا تخمینہ 3کروڑ 60 لاکھ سے 5 کروڑ 10 لاکھ کے درمیان ہے۔ اس عرصے میں علاج کے لیے ایک کروڑ 70 لاکھ سے 2 کروڑ 40 لاکھ افراد نے فلو کے علاج کے ڈاکٹروں سے رجوع کیا جن میں سے 3 لاکھ 70 ہزار سے 6 لاکھ 70 ہزار افراد کو علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرنا پڑا ۔ یکم اکتوبر تا 7 مارچ( 159 دنوں میں) امریکا میں فلو سے مرنے والوںکی تعداد کا تخمینہ سی ڈی سی نے 22 ہزار تا 55 ہزار لگایا ہے۔ یعنی تقریباً 138 تا 346 افراد امریکا میں روز فلو سے مررہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک کورونا کے دنیا بھر میں 2 لاکھ کے قریب کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے8 ہزار افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں فلو سے ہونے والی اموات ساڑھے 6 لاکھ سالانہ ہیں۔ اس وقت اٹلی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ یورپ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ تقریباً 6 کروڑ کی آبادی رکھنے والے ملک اٹلی کے محکمہ صحت کے مطابق رواں سیزن میں اٹلی میں فلو سے 30 لاکھ سے زاید افراد میں فلو کے لیبارٹری ٹیسٹ مثبت آئے۔ صرف جنوری کے پہلے ہفتے میں ہی اٹلی میں فلو سے 5 لاکھ افراد بیمار ہوئے تھے۔ کورونا وائرس سے مرنے کے بارے میں بھی اٹلی کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثریت کی عمر 60 برس سے زاید تھی اور انہیں پہلے سے ہی کئی عارضے لاحق تھے۔ اٹلی میں فلو پہلے بھی وبائی صورت اختیار کرتا رہا ہے۔ 2013-14ء اور 2016-17ء کے دوران مجموعی طور پر اٹلی میں فلو سے 60 ہزار سے زاید اموات ہوئی تھیں مگر اٹلی کا لاک ڈاؤن اس وقت بھی نہیںکیا گیا تھا۔