خیبر پختونخوا میں ریسٹورنٹس، بیوٹی پارلرز بند کرنے کا اعلان

124

پشاور (اے پی پی) پختونخوا حکومت کا ریسٹورنٹس ، بیوٹی پارلرز، حجاموں کی دکانیں، سیاحتی مقامات بند کرنے کا اعلان، گھروں و دیگر مقامات پر تقریبات پر پابندی، بازار اور شاپنگ مالز صبح 10تا شام 7 کھلے رہیں گے، صحت اور اطلاعات کے سوا دیگر محکموں میں عوام کا داخلہ بندکردیا گیا۔وزیراعلیٰ خیبر پختو نخوا محمود خان نے بدھ کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ پوری قوم کے لیے کڑے امتحان کا وقت ہے جس سے نمٹنے کے لیے قوم کو حکومت کا دست و بازو بننا ہو گا اقدامات کا مقصدعوام کی زندگیوں اور صحت کا تحفظ ہے، انہوں نے کہا یہ ایک جنگ جسے ہم سب نے ملکر لڑنا اور جیتنا ہے اور اس کے دوران کٹھن مرحلوں کا خندہ پیشانی سے سامنا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام بازار اور شاپنگ مالز صبح 10 بجے سے شام 7بجے تک کھلے رہیںگے تاہم کریانہ اسٹورز پراس پابندی کا اطلاق نہیں ہو گا ۔ انہوں نے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس دوران بھی صرف انتہائی ضرورت کے تحت بازاروں کا رخ کریں اور حتیٰ الامکان خود کو ایک دوسرے سے الگ رکھیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ بھی ہو ا ہے کہ حجاموں کی دکانیں اور بیو ٹی پالررزبھی 15روز کے لیے بند رہیں گیجبکہ ریسٹورنٹس اور ہوٹلز کے احاطے میں کھانے پر پابندی ہوگی، ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے ۔سیاحتی مقامات کو بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے ، تعلیمی اداروں کی چھٹیاں سیر و تفریح کے لیے نہیں دی گئیں ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر کے نئے اوقات صبح 10سے سہ پہر 4 بجے تک ہونگے جبکہ جمعہ کو 12بجے چھٹی ہو گی ،سرکاری اجلاسوں میں 5 سے زیادہ افسران شرکت نہیں کرینگے اور اگر ضرورت ہوئی تو ویڈیو کانفرسنگ کا سہارا لیا جا ئے گا وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ یہ وقت استغفار اور خصوصی دعاؤں کا ہے، عوام اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اس وبا سے نجات کے لیے دعائیں مانگیں باقی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں صوبائی اور وفاقی حکومتیں اپنی ذمے داریوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ انکی ادائیگی کے لیے بھی مصروف عمل ہیں اور میں خود بحیثیت وزیرا علیٰ اس وبا کیخلاف جنگ کو لیڈ کر رہا ہوں۔