عراق میں ایک اور امریکی فوجی اڈے پر راکٹوں سے حملہ

118

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق میں امریکا اور اتحادی افواج کے زیر استعمال فوجی اڈے پر ایک ہفتے میں تیسری بار راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق دارالحکومت بغداد میں واقع بسمایہ فوجی اڈے پر گزشتہ روز نامعلوم مقام سے 2 راکٹ داغے گئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ فوجی اڈے کے اندر گرے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ فوجی اڈے میں عراقی فوج کے علاوہ امریکی اور اتحادی افواج بھی قیام پذیر ہیں۔ حملے کے بعد نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل 12 مارچ کو تاجی بیس پر پہلے راکٹ حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے تھے جب کہ اس کے 2 ہی دن بعد دوسرے حملے میں 12 راکٹ داغے گئے تھے جس میں 5 اہل کاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔ اس دوران امریکی فوج نے بھی 12 مارچ کے پہلے راکٹ حملے کے جواب میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا جس میں 6 جنگجو مارے گئے تھے اور اسی کے جواب میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنا گیا تھا۔ دوسری جانب عراقی شیعہ ملیشیا حشد الشعبی نے کہا ہے کہ امریکا کے دہشت گردانہ حملوں کا ہر حال میں جواب دیا جائے گا اور یہ حملے امریکا کے لیے انتہائی درد ناک اور سخت ہوں گے۔ حشد الشعبی سے وابستہ گروہ سرایا الخراسانی کے جنرل سیکرٹری علی الیاسری نے کہا ہے کہ عراق کی سرزمین میں امریکا کے حالیہ دہشت گردانہ حملے عراق کی سالمیت اور اقتدار کی خلاف ورزی ہیں۔ اب امریکا کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے، جب تک دہشت گرد فوج عراق سے باہر نہیں چلی جاتی۔اُدھر وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے راکٹ حملوں کے بعد خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی نیا حملہ ہوا تو امریکا جیسے ضروری ہوا ویسے جوابی کارروائی کرے گا۔