فلسطینی نوجوان پر عباس ملیشیا کی قید میں وحشیانہ تشدد

78

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی اتھارٹی کی حراست میں موجود قیدی نے رہائی کے بعد سرکاری جلادوں کے وحشیانہ تشدد کا پردہ چاک کردیا۔ سیاسی بنیاد پرقید کیے گئے 21 سالہ طالب علم مومن نزال نے جیل سے رہائی کے بعد عباس ملیشیا کے جلادوں کی جانب سے تشدد کی تفصیلات بیان کیں۔ مومن نزال کو 396 روز تک عباس ملیشیا نے جیل میں قید رکھا،جس کے بعد انہیں رام اللہ کی فوج داری عدالت کے حکم پر 5 ہزار اردنی دینا رضمانت پررہا کیا گیا۔ انہیں قلقیلیہ میں قائم خضوری یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے وجہ بتائے بغیر حراست میں لیا گیا تھا۔ قید کے دوران انہیں لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا اور بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے۔