آپ ہائیکورٹ کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں‘ جسٹس اطہر من اللہ نیب رپورٹ پر برہم

193

اسلام آباد( آن لائن )چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے اکرم درانی کی قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ نیب نے گھروں کی الاٹمنٹ بارے جمع کرائی گئی فہرست میں جسٹس عامر فاروق کا نام شامل کر کے بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی جج بلیک میل نہیں ہوگا،عدالت کو بتانا ہوگا کیا یہ فہرست چیئرمین نیب کی منظوری سے جمع کرائی گئی ؟ سربمہرفہرست کیوں جمع کرائی گئی؟عدالت کے معزز جج کو کب گھر الاٹ ہوا؟ڈپٹی کمشنر کو گھر الاٹ ہوا ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟کیوں نا کیس کوسپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا دیں۔تفصیلات کے مطابق منگل کے روز سابق وفاقی وزیر ہائوسنگ اکرم خان درانی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے آغاز پر نیب کی جانب سے گھروں کی الاٹمنٹ کی فہرست عدالت میں جمع کرا ئی گئی ۔کانفیڈنشل کے میسج کیساتھ فہرست دیکھ کر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور نیب کے تفتیشی افسر اور نیب پراسیکیوشن ٹیم پر برس پڑے ،چیف جسٹس نے کہا کہ فہرست میں جسٹس عامر فاروق کا نام کیوں ڈالا گیا۔ آپ ہائی کورٹ کو بلیک میں کرنا چاہتے ہیں ، یہ لسٹ سربمہر کیوں رکھی، اسے پبلک کیوں نہیں کیا ،یہ بتائیں کہ جسٹس عامر فاروق کو گھر کی الارٹمنٹ کب اور کس قانون کے تحت ہوئی؟کیا ان کا استحقاق نہیں بنتا، اگر بنتا ہے تو پھر آپ نے ان کا نام لسٹ میں کیوں ڈالا؟ ڈپٹی کمشنر کو گھر الاٹ ہوا ہے تو اس میں کیا برائی ہے ؟ کیوں نہ ہم یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اس سوال کا جواب دیں کہ آپ نے اس فہرست کو سربمہر کیوں رکھا ہے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے کیا آپ عدالت کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں،کیا آپ نے یہ فہرست چیئرمین نیب کی اجازت سے جمع کرائی؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ یاد رکھیں کہ اس ہائی کورٹ کا کوئی جج بھی بلیک میل نہیں ہو سکتا اس لسٹ کو دیکھ کر نیب کی اہلیت ظاہر ہو رہی ہے لسٹ کو پبلک کریں، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ چھپائیں گے ، جسٹس اطہر من اللہ نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کی مجھے کب الاٹمنٹ کی؟ جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ اپریل 2019میں آپ کو الاٹمنٹ ہوئی ۔ عدالت نے کہا کہ ہائیکورٹ کے جج کو یہ گھر قانون کے مطابق الاٹ ہوتے ہیں تو آپ نے اس میں کیوں ڈالا؟ اس میں کانفیڈینشل کیا ہے؟ ہم سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں گے اس لسٹ کو آپ پبلک کریں کیا آپ اس رپورٹ کو بنیاد بناکر ملزم کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارے علم میں بہت سی چیزیں ہیں یہ لسٹیں آپ لوگوں کو خفیہ طورپر پر دے رہے ہیں ۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل اورنگزیب نے کہا کہ ہم چیئرمین کے عہدے کا احترام کرتے ہیں کہ وہ سابق جج ہیں لیکن ہمارے لئے وہ ایک پبلک آفس ہولڈر ہیں، لیکن برداشت کی بھی حد ہوتی ہے،کیا ہم چیئرمین نیب کو طلب کریں؟۔