پاکستان اسٹاک مارکیٹ،70 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی

175

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میںمنگل کو بھی شدید مندی چھائی رہی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس33ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے مزید1067.98پوائنٹس کی کمی سے32616.93 پوائنٹس سطح پر آگیاجب کہ حصص کی فروخت کے دباؤ کے باعث70فی صد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس سے سرمایہ کاروں کو ایک کھرب80ارب51کروڑ8لاکھ روپے کا نقصان ہوا ۔نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے بینک آف پنجاب ،پایونیر سیمنٹ ،مییپل لیف،ہیسکول پٹرول،یونٹی فوڈز،فوجی سیمنٹ ،پاک الیکٹران ،حب پاورکمپنی ،ڈی جی خان سیمنٹ اور پاک پٹرولیم کے شیئرز سرفہرست رہے ۔کورونا وائرس کے پھیلتے دنیا بھر کی معیشت پر پڑتے منفی اثرات کے باعث گزشتہ روز منگل کو بھی پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار کے آغاز سے ہی مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دینے کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مندی کے بادل گہرے ہوتے چلے گئے جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس 33ہزار کی نفسیاتی حد سے گرتے ہوئے32420 پوائنٹس کی سطح پر آگیا بعد میں معمولی ریکوری آئی لیکن مجموعی طور پر مندی کے اثرات غالب رہے اور مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 3.17فیصد یعنی 1067.98پوائنٹس کی کمی سے32616.93 پوائنٹس پر بند ہوا ۔اسی طرح کے ایس ای30 انڈیکس 543.84پوائنٹس کی کمی سے14321.08 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس618.88 پوائنٹس کی کمی سے23248.34 پوائنٹس پر بند ہوا۔گزشتہ روز355کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 251کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور صرف 86کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 18کی قیمتوں میں استحکام رہا.بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت ایک کھرب80 ارب51کروڑ8لاکھ روپے کی کمی سے گھٹ کر62 کھرب 33ارب 31کروڑ68لاکھ روپے ہوگئی البتہ کاروباری حجم پیر کے مقابلے میں 11.57فیصد زائد رہا ۔قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حساب سے سیپ ہائر فائبرکے حصص کی قیمت 50.59روپے کے اضافے سے 729.99 روپے اورشیزان انٹرکے حصص کی قیمت19.01 روپے اضافے سے334روپے ہوگئی۔جب کہ نمایاں کمی کے لحاظ سے یونی لیور فوڈز کے حصص قیمت 150 روپے کمی سے6950 روپے اورکولگیٹ پامولو کے حصص کی قیمت 117.55روپے کمی سے 2249.39 روپے ہوگئی ۔