افغان حکومت سے مسائل کے حل کیلیے امریکا کی ضرورت نہیں ،شاہ محمود

115

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ پاک افغان معاملات کے حل کیلئے امریکا کی ضرورت نہیں ۔وزیر خارجہ شاہ محمود کا غیر ملکی خبر ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو دو طرفہ معاملات کے حل کے لئے امریکا کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے افغانستان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوا تو میں امریکا سے کردار ادار کرنے کا نہیں کہوں گا بلکہ میں خود رابطہ کروں گا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانوں کو سمجھنا چاہیے کہ امریکا یہاں سے نکل رہا ہے جبکہ ہم ہمیشہ ہمسائے رہیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کا بحران رہا لیکن پاکستان نے اعتماد کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے بطور وزیر خارجہ پہلا دورہ ہی کابل کا کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے لیے افغانستان کتنا اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جلدی قیدیوں کے تبادلے سے معاملات آگے بڑھیں گے۔ قیدیوں کے تبادلے سے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی ہوگی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے سے یہ پیغام جائے گا کہ سب اپنے ماضی سے نکل چکے ہیں اور مستقبل پر نظر ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق۔اس اعلامیے کی ایک شق میں کہا گیا کہ امریکا نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کا وعدہ کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ دونوں ممالک میں سے کسی کی سیکورٹی کو دوسری طرف کی سرزمین سے کسی بھی کاروائی کا خطرہ نہ ہو۔شاہ محمود قریشی نے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے امریکا کے افغانستان سے فوجی انخلا کے ارادے کے پیش نظر کہا کہ انہیں پاکستان سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہییں کیونکہ امریکا، انخلا کی منصوبہ بندی کررہا ہے جبکہ ہم ہمیشہ پڑوسی رہیںگے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر مجھے افغانستان سے کوئی مسئلہ ہوا تو میں واشنگٹن سے کردار ادا کرنے کے لیے نہیں کہوں گا۔