پی آئی اے انتظامیہ کا ڈیپوٹیشن پر آئے فضائیہ افسران کو ہٹانے سے گریز

378

کراچی (نمائندہ جسارت) چیف ایگزیکٹو آفیسر کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے واضح احکامات کے باوجود پی آئی اے کی انتظامیہ ڈپوٹیشن پر پاک فضائیہ سے آئے ہوئے افسران کو ان کے اپنے ادارے میں واپس بھیجنے سے انکاری ہے ۔ پی آئی اے کے سینئر افسران کی تنظیم ساسا کے جنرل سیکرٹری صفدر انجم کی درخواست پر عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ پی آئی اے کے سربراہ وائس چیف آف ائر اسٹاف ائر مارشل ارشد ملک یا تو پاک فضائیہ کی نوکری رکھیں یا پھر پی آئی اے کی ۔ اس وقت فضائیہ کے 8افسران پی آئی اے کی کلیدی عہدوںپر تعینات ہیں ۔ ان میں ائروائس مارشل نور عباس ایڈوائزر ٹو سی ای او، ائرکموڈور عامر الطاف چیف ہیومن ریسورس آفیسر، ائر کموڈور شاہد قادر چیف سیکورٹی اینڈ ویجیلنس آفیسر، ائرکموڈور جواد ظفر چودھری چیف کارپوریٹ ڈیولپمنٹ آفیسر، ائر کموڈور خالد برلاس چیف انفارمیشن آفیسر، ائر کموڈور جبران سلیم بٹ اسپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ای او، ونگ کمانڈر عاصم جی ایم بجٹ ، ونگ کمانڈر کامران انجم جی ایم مارکیٹنگ اسپیڈ ایکس کی اسامیوں پر تعینات ہیں جبکہ ڈپوٹیشن پر آیا ہوا ایک افسر فلائٹ لیفٹیننٹ طاہر اسٹاف آفیسر ٹو سی ای او واپس پاک فضائیہ میں جاچکا ہے، کسی کو خاطرمیں نہ لانے اور کمر شل ایوی ایشن سے ناواقفیت کے علاوہ بھی ڈپوٹیشن پر آئے ہوئے افسران پی آئی اے میں مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ ڈپٹی جنرل منیجرکے عہدے پر تعینات کامران انجم پر جنسی ہراسگی کے تحریری الزامات ہیں مگر انہیں سزا دینے یا ان کے ادارے میں واپس بھیجنے کے بجائے ترقی دے کر جنرل منیجر کے عہدے پر تعینات کردیا گیا۔ جنسی ہراسانی کے الزامات پر تحقیقات کرنے والی سینیٹ کمیٹی کی جانب سے کئی بار طلب کرنے کے باجود کامران انجم پیش نہیں ہوئے ۔ پی آئی اے کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ڈپوٹیشن پر آئے ہوئے تمام افسران کے بارے میں حکم نہیں دیا ہے اس لیے مذکورہ افسران کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔