ٹنڈو باگو، کوٹری بیراج میں پانی کی قلت ، زیریں سندھ کے اضلاع شدید متاثر

201

 

ٹنڈو باگو (نمائندہ جسارت) محکمہ آبپاشی سندھ کی جانب سے خریف کے سیزن کے لیے ارسا کو مطلوبہ پانی کا انڈنٹ نہ دینے کے باعث کوٹری بیراج پر پانی کی قلت 70 فیصد سے تجاوز کرگئی ہے جس کی وجہ سے زیریں سندھ کے اضلاع بدین، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹھہ میں پانی کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا ہے، کوٹری بیراج پر پانی کی قلت میں اضافے کے بعد محکمہ آبپاشی اور سیڈا حکام نے لیفٹ بینک کینال کی آبپاشی سب ڈویژنوں میں پانی کی طویل وارہ بندی شروع کردی ہے، جس کی وجہ سے خریف کی اہم اور بڑی فصلوں کپاس، مرچ، سورج مکھی اور گنے کی بوائی بری طرح متاثر ہورہی ہے جبکہ پینے کے پانی کا بحران بھی بڑھ گیا ہے، محکمہ آبپاشی سندھ کے حکام نے جنوبی سندھ میں خریف کی فصلوں کومدنظر رکھے بغیر ارسا سے پانی کی ڈیمانڈ کی ہے، جس کی وجہ سے کوٹری بیراج پر قلت آب بہت بڑھ گئی ہے اور زیریں سندھ میں فصلوں کی بوائی شروع ہی نہیں ہوسکی جبکہ سیڈا اور آبپاشی حکام نے کوٹری بیراج پر پانی کی قلت میں خوفناک اضافے کے بعد لیفٹ بینک کینال کی اکرم ڈویژن کی چار آبپاشی سب ڈویژنوں شادی، گاجا، کڈھن اور قاضیہ میں پانی کی وارہ بندی کا شیڈول جاری کردیا ہے اور ہر سب ڈویژن میں پانی کی فراہمی کا وقفہ اکیس روز رکھا گیا ہے۔ اس صورتحال پر ضلع بچائو تحریک بدین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے ضلع بچائو تحریک کے رہنمائوں عزیز اللہ ڈیرو اور خلیل احمد بھرگڑی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوِئے کہا ہے کہ خریف کی فصلوں کی بوائی کے وقت محکمہ آبپاشی کی جانب سے طلب کے مقابلے میں پانی کی فراہمی میں کمی انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی سنگین قلت کے باعث جہاں ایک طرف نئی فصلوں کی بوائی شروع نہیں ہوسکی وہیں پر کھڑی فصلیں بھی سوکھ رہی ہیں، جس سے زیریں سندھ کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ زیریں سندھ میں کپاس اور مرچ کی کاشت بڑے پیمانے پرکی جاتی ہے اور کاشت کاروں کے ذرائع آمدن کا زیادہ تر دارو مدار بھی ان فصلوں پر ہوتا ہے مگر محکمہ آبپاشی سندھ کی نااہلی اور بدانتظامی کے باعث کوٹری بیراج پر پانی کا بحران بہت تشویشناک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بچائو تحریک بدین اس بدانتظامی اور نااہلی کیخلاف احتجاجی تحریک چلائے گی کیونکہ اس نااہلی کے باعث ملک میں پانی کے ذخائر بہتر ہونے کے باوجود زیریں سندھ میں زرعی اور پینے کے پانی کا خوفناک مصنوعی بحران پیدا ہوگیا ہے اور زیریں سندھ کی پہلے سے انحطاط کا شکار زراعت مزید زوال پذیر ہوگی اور اس کا منفی اثر ملک کی مجموعی زرعی صورتحال پر بھی پڑے گا، ضلع بچائو تحریک نے وزیر اعلیٰ سندھ کی توجہ اس طرف مبذول کراتے ہوئے نااہل آبپاشی حکام کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔