ہم پر دباو ہے ،دلی فسادات جیسے واقعات نہیں روک سکتے،بھارتی عدالت عظمیٰ

145

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہم پر دبائو ہے،دلی فسادات جیسے واقعات نہیں روک سکتے۔بھارتی سپریم کورٹ۔تفصیلات کے مطابق انڈیا کی عدالت عظمی نے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونیوالے فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق متاثرین کی جانب سے دی جانیوالی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔اس میں عرضی گزاروں نے بی جے پی رہنما کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور دیگر متعدد افراد پر مبینہ طور پر دلی میں تشدد بھڑکانے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائے جانیکا مطالبہ بھی کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ عدالت بھی امن چاہتی ہے لیکن اسے ان کے کام کرنے کی حدود کا علم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالت صرف اس وقت حکم دے سکتی ہے جب کوئی واقعہ پیش آ چکا ہو۔عدالت اب اس کیس کی سماعت چار مارچ بروز جمعہ کو کرے گی۔ خیال رہے کہ اسی قسم کی ایک درخواست دلی ہائی کورٹ میں بھی زیر التوا ہے جس پر اگلی سماعت 13 اپریل کو ہونی ہے۔اس سے قبل ہائی کورٹ کے جس جج نے پولیس کو اب تک بی جے پی کے مذکورہ رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نہ درج کیے جانے پر سخت و سست کہا تھا انھیں فوری طور پر تبدیل کرکے ہریانہ اور پنجاب ہائی کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے عرضی کو سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مرنے دیا جائے۔ لیکن ہمارے پاس اس قسم کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ہم واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روک سکتے۔ ہم پہلے سے کوئی راحت نہیں دے سکتے۔ ہم ایک قسم کا دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ ہم کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد ہی صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں، ہم پر جس قسم کا دباؤ ہوتا ہے ہم اس کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں۔ایسا لگتا ہے جیسے عدالت ہی ذمہ دار ہے۔ ہم اخبار پڑھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ کس طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ جب کوئی واقعہ پیش آ جائے اس کے بعد ہی عدالتیں کچھ کر سکتی ہیں۔ عدالتیں ایسی چیزوں کو روک نہیں سکتی ہیں۔سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں، اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کے علاوہ مزید کچھ احکامات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ان میں فسادات کی تحقیقات کے لیے دلی سے باہر کے افسروں پر مشتمل ایس آئی ٹی بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کی تعیناتی کی گذارش بھی شامل ہے۔فساد میں پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ متاثرین کو معاوضہ دینے اور پولیس یا نیم فوجی دستوں کے ذریعہ گرفتار ہونے والوں کی فہرست کو عام کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔درخواست گزاروں نے حراست میں لیے گئے لوگوں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور تشدد سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں پکا ہوا کھانا فراہم کرنے، فسادات سے متاثرہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ان کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات اور مجرمانہ سلوک کرنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی ذمہ داری ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جانی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کو قانونی طور پر سروس سے برخاست کیا جا سکے۔