فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت

101

اسلام آباد (آن لائن) عدالت عظمیٰ میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 71 ملزمان کی بریت کے خلاف وزارت دفاع کی اپیل پر سماعت، عدالت نے مقدمہ 3 رکنی بینچ کے سامنے مقرر کرنے کیلیے فائل چیف جسٹس کو بھجوادی۔ معاملے کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج 3 رکنی بینچ نہیں، 2 رکنی بینچ اس کیس کو نہیں سن سکتا۔ ملزمان کے وکیل نے اس موقع پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری معلومات کے مطابق کبھی عدالت عظمیٰ نے بریت کے حکم کو معطل نہیں کیا، عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ملزم کی بریت کا فیصلہ معطل کیا گیا ہے،
ملزمان بری ہونے کے باوجود جیل میں ہیں، بغیر سنے عدالت عظمیٰ بھی ایسا حکم نہیں دی سکتی تھی، وزارت دفاع کی اپیل تو قابل سماعت بھی نہیں تھی۔ ڈیڑھ سال سے ملزمان جیل میں ہیں، صرف فوجی مقدمہ ہونے کے باعث ملزمان کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے، بدقسمتی ہے کہ فوج جو بھی کرے ان کے خلاف حکم جاری نہیں ہوتا، ایسا رویہ دنیا میں کہیں نہیں ہے جس پر جسٹس مشیر عالم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ تقریر باہر جاکر کریں۔ عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔