سندھ گیس فیلڈ منصوبہ: عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹ کا حکم معطل کردیا

120

اسلام آباد (آن لائن) سندھ میں گیس فیلڈ کے قریبی علاقوں میں گیس کی عدم فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے سندھ ہائیکورٹ کا حکم آئندہ سماعت تک عبوری طور پر معطل کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی منصوبہ 10 سال میں مکمل کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے منصوبے پر قابل قبول تجویز جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کی سماعت 5 مارچ تک کیلیے ملتوی کردی ہے۔ معاملے کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔ سوئی سدرن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کی لاگت مقررہ حد سے بڑھنے کی صورت میں اضافی رقم وفاقی حکومت نے
فراہم کرنی تھی، جہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں آبادی زیادہ ہے وہاں فی کس لاگت کم ہوگی اور جس جگہ آبادی کم ہے وہاں لاگت زیادہ آئے گی۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ منصوبے پر 17 سال میں عمل درآمد نہیں ہوسکا اور کتنا وقت لگے گا؟ نہ لوگوں کو پانی مل رہا نہ گیس مل رہی ہے، آپ لوگوں کی رکاوٹیں آجاتی ہیں کام ہوتے نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 6 ماہ میں پروجیکٹ مکمل کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ یہ پروجیکٹ 10 سال میں مکمل ہونا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے ایک موقع پر ریمارکس دٰے کہ وزیر اعظم 2003 میں عمل درآمد کی ہدایت دے چکے ہیں آج تک عمل نہیں ہوا، 17 سال گزرنے کے باوجود حکومت نے نہ تو گیس فراہم کی اور نہ ہی رقم جمع کروائی، رقبے میں اضافہ نہیں ہوا تو لاگت میں اضافہ کیسے ہوسکتا ہے؟ْ