سندھ حکومت کا کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو کنٹرول یا ختم کرنے کا منصوبہ ، واٹر اتھارٹی کمیشن قائم کیا جائے گا

661

 

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے کراچی سمیت پورے صوبے میں فراہمی و نکاسی آب کا نظام اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے فوری طور پر واٹر ایکٹ 2020ء متعارف کراکر سندھ واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی ( ایس ڈبلیو ایس آر اے ) اور سندھ واٹر ریسورسز کمیشن ( ایس ڈبلیو آر سی ) قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کی منظوری آج 3 مارچ بروز منگل کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں لی جائے گی۔ خیال رہے کہ فراہمی ونکاسی آب کے حوالے سے سندھ میں سب سے بڑا وسائل سے بھرپور ادارہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ہے جس کی سالانہ آمدنی کم وبیش9 ارب روپے ہے۔ مگر مجوزہ قانون اور اس کے تحت قائم کیے جانے والے واٹر کمیشن اور واٹر اتھارٹی کا مسودہ کے ڈبلیو اینڈ ایس بی کے ذکر سے پاک ہے۔ خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت کراچی کے دیگر اداروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذریعے وصول کیے جانے والے اربوں روپے اور ادارے کی کھربوں روپے مالیت کی جائداد کو اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے۔ خیال رہے کہ 18 فروری کو صوبائی حکومت نے کراچی
کے وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے کراچی ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ختم کر کے سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی ( ایس ایم اے ) قائم کر چکی ہے۔ مجوزہ واٹر ایکٹ 2020 کے حوالے سے “جسارت” کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق مذکورہ ایکٹ کے تحت سندھ واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی ( ایس ڈبلیو ایس آر اے ) اور سندھ واٹر ریسورسز کمیشن (ایس ڈبلیو آر سی) بنایا جا رہا ہے‘ مذکورہ دونوں اداروں کی تشکیل کے لیے حکومت اس قدر تیزی دکھا رہی ہے کہ جس قانون کے تحت مذکورہ واٹر اتھارٹی اور واٹر کمیشن قائم کیا جا رہا ہے وہ قانون تاحال سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اسمبلی سے اس کی منظوری لی گئی ہے۔ تاہم منگل کو سندھ کابینہ سے اس قانون کے ڈرافٹ کو اسمبلی میں بل کی شکل میں پیش کرنے کی منظوری لی جائے گی۔ نمائندہ جسارت کی تحویل میں موجود بل کی تفصیلات کے مطابق ( ایس ڈبلیو ایس آر اے ) کے چیئرمین چیف سیکرٹری سندھ ہوں گے جبکہ سیکرٹری فنانس، سیکرٹری ایری گیشن، سیکرٹری انوائرمنٹ، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سیکرٹری ایگریکلچر، سیکرٹری انڈسٹریز، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف اور سیکرٹری ہیلتھ رکن ہونگے۔ ان اراکین کے ساتھ 2 ماہر آب، ایک ماہر ماحولیات، اور ایک ماہر پبلک ہیلتھ بحیثیت ڈائریکٹر جنرل برائے اتھارٹی ہوگا۔ جبکہ ایس ڈبلیو آر سی کے چیئرمین وزیر اعلیٰ سندھ ہونگے جبکہ اس کمیشن کے وائس چیئرمین چیف سیکرٹری اور اراکین میں وزیرخزانہ، وزیر زراعت، وزیر ماحولیات، وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، وزیرآبپاشی، وزیر صنعت، وزیر بلدیات، وزیر جنگلات، وزیر صحت اور چیئرمین پلاننگ وڈیولپمنٹ بورڈ کے علاوہ ایک ماہر نکاسی آب اور ایک بحیثیت کمیشن کے ڈی جی وسیکرٹری رکن ہونگے۔ واضح رہے کہ واٹر ایکٹ کے تحت مجوزہ کمیشن اور اتھارٹی کی دستاویز میں کہیں پر بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا ذکر نہیں ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت خود مختار اور1957ء میں قائم ہونے والے اس اہم ترین ادارے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس کے تقریباً 13 ہزار ملازمین کو سندھ واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی (ایس ڈبلیو ایس آر اے ) میں شامل کر دے گی یا اس کی خود مختاری ختم کرکے مذکورہ اتھارٹی کے ماتحت کردے گی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مجوزہ اتھارٹی کے دائرہ کار میں پانی فراہم کرنے اور نکاسی آب سے متعلق تجربہ کار اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا بھی ذکر ہے‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج سسٹم کو مختلف نجی اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ واٹر ایکٹ 2020ء کی صوبائی کابینہ سے منظوری کے لیے منگل کو ہونے والے اجلاس میں ایجنڈا نمبر 4 پر رکھا گیا ہے۔