طالبان کا قیدیوں کی رہائی تک بین الافغان مذاکرات سے انکار ۔ افغان فورسز پر حملوں کا اعلان

232

 

کابل(خبرایجنسیاں)افغان طالبان نے اپنے ساتھیوں کی رہائی تک بین الافغان مذاکرات سے صاف انکار کرتے ہوئے مقامی سیکورٹی فورسز پر دوبارہ حملوں کا اعلان کردیا۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان میں اسیر 5 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کی رہائی تک کابل حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ترجمان نے اس حوالے سے افغان صدر اشرف غنی کے بیان
کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ 10 مارچ تک طالبان کے 5 ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، اگر ایسا کردیا جاتا ہے تو ہی طالبان آئندہ مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس طرح کی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ لوگ کشیدگی میں کمی سے خوش ہیں اس لیے ہم ان کی یہ خوشی تباہ نہیں کرنا چاہیے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنی کارروائیاں اس سطح پر نہیں لے جائیں گے جس سطح پر یہ پہلے تھیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ کارروائیاںاس سطح پر کبھی بھی پہنچ سکتی ہیں، ایک گھنٹے بعد، آج رات کو، کل یا دو روز بعدبھی۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ امریکا سے ہونے والے معاہدے سے قبل جو 7 روزہ عارضی جنگ بندی کی گئی تھی اور کا دورانیہ اب ختم ہوچکا ہے لہٰذا افغان فورسز کے خلاف اپنی معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوحا معاہدے کے مطابق ہمارے جنگجو غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ افغان طالبان کے اعلان کے بعد افغانستان کے صوبے خوست میں فٹبال میچ کے دوران بم دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں3افراد ہلاک اور11زخمی ہو گئے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق بارود سے لدی موٹر سائیکل میں نصب بم فٹبال اسٹیڈیم کے قریب پھٹ گیا، واقعے کی ذمے داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستان نے امریکا طالبان معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات کے لیے تیاریاں شروع کر دیں ہیں تاہم ابھی مذاکرات کے لیے مقام کا تعین نہیں کیا گیا ۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے بین الافغان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف افغان گروہوں سے رابطے شروع کردیے ہیں،مکالمے میں شرکت کے لیے افغان فریقین کے مختلف وفود پاکستان پہنچیں گے تاہم افغان قومی حکومت کے بعض اہم رہنمائوں کو بین الافغان مذاکرات پر تحفظات ہیں۔ دوسری جانب ناروے اور انڈونیشیا کی جانب سے بین الافغان مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی گئی ہے مگر پاکستان نے مذاکرات کے لیے مقام کا تعین نہیں کیا ہے۔ پاکستان بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے افغان قومی ڈائیلاگ کا انعقاد بھی کرے گا،ا فغانستان پر خصوصی قومی ڈائیلاگ مارچ کے آخری ہفتے میں منعقد ہوگا،جس میں امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا کیونکہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کی کامیابی ہی افغانستان میں مستقل امن کی ضمانت ہو گی۔