سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے نوازشریف کو نااہل کرنا ضروری تھا،فضل الرحمن

328

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ناکام بنانے کے لیے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل کرنا ضروری تھا۔ اسلام آباد میں تحفظ آئین پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری سمیت مختلف سیاستداتوں کو سزائیں اسی مقصد کے لیے دی جارہی ہیں‘ ایران اور پاکستان گیس پائپ لائن کا معاہدے سے آپ کس کے کہنے پر پیچھے ہٹے؟‘ پاکستان کی اقتصادی قوت گر گئی ہے‘ماضی میں معیشت مضبوط ہونے پر واجپائی نے پاکستان آ کر تجارت کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں بھارت کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی‘مجھ پر آرٹیکل 6 لاگو کرنے کی بات کی جاتی ہے‘ مجھے اس پر بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جو شخص اپنی جان ہتھیلی پرلیے گھوم رہا ہے تم اسے ڈراتے ہو۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے لوگ ملک سے باہر جارہے ہیں جبکہ سرمایہ کار کا سرمایہ غیر محفوظ ہوگیا ہے‘ ملک میں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مہنگائی عروج پر ہے‘ نااہلوں نے شرح نمو2 فیصد دکھائی جو جھوٹ تھا‘ گزشتہ سال کی نسبت گندم میں30 فیصد اور چاول کی پیدوار میں 40 فیصد کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر ملکی مفادات کا قتل کرنے والے لوگ مسلط ہیں‘ حکومت نے سی پیک کو عملاً سرد خانے میں ڈال دیا ہے اور جو حال بی آر ٹی کا کیا وہی سی پیک کا کر رہی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی حکومت نہیں ہے‘ کوئی سفارتی آداب ہیں نہ جمہوری اقدار ہیں۔