ایران سے تجارت کی بندش ،برآمد کنندگان کواضافی اخراجات کا سامنا

200

اسلام آباد (اے پی پی) سڑک کے ذریعے پاک ایران تجارت کی بندش کے بعد پاکستانی برآمد کنندگان عراق اور آذربائیجان کو پھلوں اور سبزیوں کی سمندری راستے سے برآمدات کر رہے ہیں جس سے برآمد کنندگان کو 400ملین روپے یومیہ کے اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز ، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن(پی ایف وی اے) کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ، عراق اور آذرئیجان کو ایران کے راستے آلو ، کینو اور بیر وغیرہ کی برآمد کرتا
ہے تاہم ایران میں کرونا وائرس کے پھیلائو کے بعد حکومت نے زمینی راستے سے پاک ایران تجارت پر عارضی پابندی عاید کی ہے تاکہ ملک میں وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عراق اور آذربائیجان کو سالانہ 800ٹن آلو ،500ٹن کینو اور 110ٹن بیر برآمد کرتا ہے لیکن زمینی راستہ سے تجارت کی بندش کے باعث عراق کو بذریعہ سمندر برآمدات کی جارہی ہیں تاہم لینڈ لاک ملک ہونے کی وجہ سے آذربائیجان کے برآمدی آرڈرز پورے کرنے میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ آذربائیجان تک بذریعہ سڑک ایران کے راستے آسانی سے رسائی حاصل ہے جبکہ بذریعہ سمندر صرف جارجیا کی بندرگاہ کے ذریعے ہی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے جو انتہائی مہنگی پڑتی ہے۔ وحید احمد نے پاک ایران سرحد کی بندش کے حکومتی فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ تجارت اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے تاہم لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ تجارت سے زیادہ مقدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران سرحد کھلنے سے بہت جلد پاکستانی برآمد کنندگان اپنے آرڈرز کو مکمل کر سکیں گے۔