چیئرمین قانون پر عمل کروائیں EOBI

199

تحریر عبدالجبار قریشی

ادارے قانون سازی سے نہیں اخلاص نیت سے چلا کرتے ہیں جب اداروں میں مفاد پرستی عام ہوجائے تو اچھے سے اچھا قانون بھی کسی کو اس کا حق نہیں دلاسکتا جس کی بدترین مثال ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن کا قانون ہے جس کے مطابق شرائط پوری کرنے والا ہر محنت کش ، بیوہ ، یتیم بچے 45دن کے اندر پینشن بک لینے کے حقدار ہیں اور یہ قوانین EOBI کے خود بنائے ہوئے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کرانا ہاتھی کو رکشے میں بٹھانے سے بھی مشکل ہے۔ یہ افسران جن میں چیئرمین بھی شامل ہیں انہی محنت کشوں کے چندے سے حاصل ہونے والی رقوم سے خود تو عیش و عشرت کی زندگیاں گذاررہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد فوری پنشن کے حقدار بھی قرار پاتے ہیں اور مراعات کے نام پر 50 لاکھ سے زائد رقم تو اس ادارے کے ہر ملازم کا حق ہے جبکہ عہدے کے اعتبار سے یہ رقم بڑھ کر کروڑوں تک چلی جاتی ہے۔ لیکن ان سب کے پاس غریبوں کی فریاد سننے کے لئے وقت نہیں۔ ریجنل ہیڈ سے چیئرمین تک فائلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ لیکن کوئی فائل اپنی جگہ سے ہل نہیں رہی صرف وہ فائلیں حرکت میں رہتی ہیں جن کو پہیے لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔ چیئرمین صاحب کے پاس اپیل زیر دفعہ 33ہو یا اپلیٹ اتھارٹی کے پاس زیر دفعہ 34 اور ایجوکیٹنگ اتھارٹی کے پاس زیر دفعہ 33 کسی کی بھی سماعت کا وقت مقرر نہیں کیا جاتا جبکہ ادارے کے اپنے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق کسی بھی اپیل کی سماعت 3 ہفتے اور فیصلہ زیادہ سے زیادہ 6 ہفتے میں سنایا جانا لازم ہے ۔ چیئرمین صاحب کے پاس عبدالغنی ولد عبدالرشید کی اپیل 2016 سے فیصلہ پر عملدرآمد کی منتظر ہے ۔ مسماۃ سومل زوجہ کارو کی اپیل اپلیٹ اتھارٹی کے پاس 2015 سے سماعت کی منتظر ہے ۔(1) امرین بیوہ نور محمد ولد سکندر، (2) فہمیدہ بیوہ یعقوب ، (3) شمو بیوہ ملہار، (4) گومی بیوہ واگو،(5) عیدی بیوہ منیر خان ، (6) سعیدہ بیوہ لیاقت ، (7) دھنی بیوہ پونجا کی اپیلیں ایجوکیٹنگ اتھارٹی کے پاس طویل عرصے سے سماعت کی منتظر ہیں جبکہ ریجنل ہیڈ کے پاس داخل کلیم بھی طویل عرصے سے فیصلے کے منتظر ہیں جن کے نام یہ ہیں (1) سعید اکبر نظامانی ولد محمد اکبر خان ، (2) سموری زوجہ ہری چند، (3) مینا بیوہ کرشن، (4) چاند بی بی بیوہ اسد اللہ خان ، (5) مصری شاہ ولد پیغام شاہ ، (6) محمد منشی ولد حسین بخش، (7) خلیل بیگ ولد امام بیگ، (8) سید محمد انوار ولد محمد عمر حیات خان، (9) نسیم بیگم بیوہ محمد عثمان جبکہ کلیم داخل ہونے کے 45 دن کے اندر ان پر فیصلہ کرنا پنشن کو جاری کرنا یا مسترد کرنے کی صورت میں اس کی وجوہات سے تحریری طور پر رجوع کرنا ضروری ہے لیکن جب چیئرمین ہی قواعد پر عمل درآمد نہیں کررہے تو وہ اپنے عملے سے عملدرآمد کیسے کرا پائیں گے اور غریب محنت کش کس سے رجوع کریں یہ وہ سوال ہے جس کا جواب شاید وزیر اعظم کے پاس بھی نہ ہو وزیر اعظم جب احتساب کی بات کرتے ہیں تو انہیں اس ادارے کا احتساب بھی کرنا چاہئے جو غریبوں سے حاصل چندے پر چل رہا ہے لیکن اس کے پاس اس چندے کا اصل مصرف غریبوں کو پنشن دینے کے لئے نا وقت ہے نا وسائل اگر اس ادارے کا سنجیدگی سے آڈٹ کرایا جائے تو ملک کا آدھا قرضہ اتر سکتا ہے