پاکستان میں صنعتی تعلقات کا نظام

322

قسط4

رانا محمود علی خان

اس وقت ملک میں تین سیکٹر موجود ہیں (1)پبلک سیکٹر(2)ملٹی نیشنل کارپوریشنز (3) پرائیوٹ سیکٹر (4)غیر منظم ورکرزعملاً کسی ادارے نے کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جہاں پر آئیڈل باہمی صنعتی تعلقات کا نظام موجود ہو جبکہ قانون میں دو طرفہ باہمی نظام پر دیانت داری سے عمل کیا جائے تو بہت سے مسائل تنازعات کا شکار نہیں ہو سکتے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے میں یہ بات بھی تحریر کر رہا ہوں کہ باہمی دو طرفہ نظام کو اصل اسپریٹ کے ساتھ نافذ کردیا جائے تو صنعتی تعلقات کا نظام اس سے بہتر کوئی ہو نہیں سکتا ہے لیکن ملٹی نیشنل کارپوریشنز کچھ ایسی ہیں جو اس نظام پر عمل کرتی ہیں مثلاً سیمنس پاکستان لمیٹڈ یونین اور انتظامیہ کے درمیان یہ طے ہوا کہ دونوں فریق کوئی شکایت تحریری طور پر لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ارسال نہیں کریں گے دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف کوئی کیس لیبر کورٹ یا دیگر کورٹوں میں داخل نہیں کریں گے مطالبات نوٹس پر ہڑتال نوٹس نہیں دیا جائے گا ہر مسئلہ کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ادارے میں کوئی صنعتی تنازعہ پیدا نہیں ہوا معاہدے اچھے ہوئے اور میری اطلاع کے مطابق اس وجہ سے انتظامیہ کو سالانہ 2کروڑ روپے کی بچت ہوئی جو کہ ایڈوکیٹس کو فیس کی مد میں ادا کرتے تھے یہ واحد مثال ہے اس کے بعد دو طرفہ نظام کو قائم کرنے کے لیے سینئر مزدور رہنمائوں اور کچھ مزدور دوست ایمپلائر نے باہمی مشاورت کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی اور عملاً ویب کوپ کے نام سے ایک انجمن بھی تشکیل دی گئی کچھ عرصہ تک ویب کوپ سے بڑا عمدہ کام کیا اور بہت سے مسائل تنازعات کو قانونی شکل دیتے ہوئے حکومت کو پیش بھی کئے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ویب کوپ بھی غیر موثر ہوتا چلا گیا اور آج ویب کوپ ایک مردہ گھوڑے کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔
٭دو طرفہ تعلقات اور باہمی طور پر مسائل حل کرنے کے لیے انڈسٹریل رلیشن ایکٹ 2012اور اس سے پہلے آنے والے ایکٹ میں باہمی تعلقات بہتر کرنے کے لیے
(1) Shop stweard, (2) Works Counsil (3) Worker Participation in Management, (4) Joint Management Board
یہ قوانین ایسے ہیں کہ جن کو اداروں میں نافذ کر دیا جائے اور نیک نیتی سے اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے مسائل از خود حل ہونے کا سبب بنیں گی میں مضمون کے طویل ہونے سے بچنے کی لیے صرف Works Counsilکی اختیارات درج کررہا ہوں
(aانتظامیہ اور ورک مین کی تعلقات کو بہتر کرنا۔
(bآجر اور محنت کشوں کے اختلافات کو باہمی گفتگو کے ذریعے حل کرنا۔
(cورکنگ کنڈیشن کو بہتر کرنا۔
(dہنر مندگی کے لیے ٹریننگ کی انتظامات کرنا ۔
(eتعلیمی سہولت کو بڑھانا۔
(fدیگر میٹر جو لیبر اور مینجمنٹ کی تعلقات کو بہتر بنائیں۔
اسی طرح سے دیگر تین اداروں کو بھی بہت موثر اختیارات موجود ہیں لیکن رجسٹرار ٹریڈ یونین یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ انہیں ہر ادارے میں نافذ کروائے اور جو ادار ہ نافذ نہ کرے تو اس پر جرمانہ بھی ہے اور قید کی سزہ بھی ہے۔
٭NIRCکا کردار
قومی صنعتی کمیشن کا قیام اس بنیاد پر کیا گیا کہ وہ ملک میں آزاد ٹریڈ یونین کو پروموٹ کریں گے لیکن ابتدائی دور کے بعد یہ NIRC صرف حکم امتنائی دینے کا ذریعہ بنا جس کی وجہ سے بہت سے خرابیاں بھی پیدا ہوئی اور یہ اپنی قیام کا اصل مقصد آزادی ٹریڈ یونین کو پروموٹ کرنے کا علاوہ ہر کرپشن کا کام کر رہا ہے جس سے صرف مایوسی پھیلی اورآجر حضرات اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں (میں NIRCکی تنظیم نو کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون مرتب کر رہا ہوں جو آخری مراحل میں ہے)۔
٭اب میں اپنے اس آرٹیکل میں اس جانب آرہاہوں کہ صنعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس ملک میں بنیادی قوانین جو نافذ کیے گئے او ر جو نافذ ہیں اس کی تفصیل یوں ہے۔
(1صنعتی تعلقات آرڈیننس 1969(وفاقی آرڈیننس)
(2صنعتی تعلقات ایکٹ 2002(وفاقی ایکٹ)
(3صنعتی تعلقات ایکٹ 2008(وفاقی ایکٹ)
(4صنعتی تعلقات ایکٹ 2012(وفاقی ایکٹ)
(5سندھ صنعتی تعلقات ایکٹ 2010-2013
(6خیبر پختونخواہ صنعتی تعلقات ایکٹ 2010
(7پنجاب صنعتی تعلقات ایکٹ 2010
(8بلوچستان صنعتی تعلقات ایکٹ 2010
صنعتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے 18ویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں نے اپنے صنعتی تعلقات ایکٹ تشکیل دیے لیکن اصل پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب وفاقی حکومت نے 2008 میں صنعتی تعلقات ایکٹ نافذ کیا اس ایکٹ میں پہلی مرتبہ یہ تحریر کیا گیا کہ یہ ایکٹ 10اپریل2010تک نافذ العمل رہے گا جب کہ کسی ایکٹ میں اس طرح سے تحریر نہیں کیا گیا ہے جب نیا ایکٹ نافذ کیا جاتا ہے تو اس میں سابقہ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تحریر کیاجاتا ہے کہ یہ ری پیل ایکٹ ہے ۔
سابق وزیر محنت سید خورشید احمد شاہ کراچی میں ممتاز آجر رہنماکے بڑے اجتماع 07-05-2009میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’ موجودہ منتخب حکومت نئی لیبر پالیسی کی تیاری کے لیے تمام فریقوں سے مشاورت کے لیے کوشاں ہے اس کا آغاز ہم نے کراچی جیسے صنعتی مرکز سے کیا ہے ان شاء اﷲ ہم ملک کے چاروں صوبوں کا دورہ کرکے آجر وں اور کارکنوں کی تنظیموں اور رہنمائوں سے مشاورت کریں گے تا کہ نئی لیبر پارلیسی پر اتفاق رائے حاصل کیا جاسکے‘‘۔
(جاری ہے)
لیکن مشاورت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق نئی لیبر پالیسی کا اعلان نہیں کیا بلکہ انڈسٹریل رلیشن ایکٹ 2012کو قومی اسمبلی میں پاس کر کے فذ کردیا اس قانون کی وجہ سے دو اہم پیچیدگیاں پیدا ہوئی ۔
(i 10اپریل2010کو انڈسٹریل رلیشن ایکٹ 2008از خود ختم ہو گیا اور دو سال کے بعد 2012میں نیا ایکٹ نافذ کیا گیا اس دو سال کے دوران کوئی وفاقی قانون موجود نہ ہونے کے سبب وفاقی طور پر وفاقی اداروں کے ملازمین اپنی بحالی کے لیے یا صنعتی تنازعات کے لیے جو کورٹ نے فیصلہ کئے وہ تمام بعد میں غیر موثر قرار دے دیے گئے ۔
(ii 2012کے انڈسٹریل ایکٹ جو کہ عجلت میں نافذ کیا گیا اس کی دفعہ 1(3) میں یہ اس طرح سے تحریر کیا گیا
1(3) It shall apply to all ersons employed in any establishment or industry, in the Islamabad Capital Territory or Carrying on business in more than one province, but shall not apply to any person employed
اس دفعہ میں یہ تحریر کیا گیا کہ اسکا نفاذ اسلام آباد کے علاوہ ایسی تمام صنعتیں جو انٹر پراوینس ہونگی اس پر یہ 2012کا اطلاق ہوگا اس کافائدہ آجر حضرات نے بھر پور طریقے سے حاصل کیا کیونکہ آجر حضرات نے اپنی ایسی فیکٹری جو ڈھرکی میں واقع ہے کا ہیڈ آفس لاہور میں ہے یہ کوئی سیل آفس کسی دوسرے صوبے میں واقع ہے انہوں نے اسے انٹرپراونس انڈسٹری قرار دیا اور اس طرح سے تمام چاروں صوبوں کی لوکل یونینز تقریبا غیر موثر ہو گئی اور صوبائی انڈسٹریل رلیشن ایکٹ سے نکل گئیں جبکہ ہر صوبہ میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کا ایک منظم طے شدہ نظام پہلے سے موجود تھااور ہے ہر صوبے میں لیبر کورٹس بڑے پیمانے پر قائم تھیںاور ہیں لیکن اس دائرہ کار سے نکلنے کے بعد تمام امور NIRCکے دائرہ اختیار میں آگئے اب اسلام آباد میں NIRCکا موجود آفس تمام ریفرنڈم ،یونین کی رجسٹریشن کا ذمہ دار تھا جب کہ NIRC کا نظام چند شہروں میں موجود تھا اس وجہ سے لوکل یونینز بری طرح متاثر ہوئیں اور اسلام آباد NIRCکے دائرہ اختیار میں آنے کے بعد NIRC کے خراب موجودہ نظام میں عملاً لوکل یونینوں کا نظام ختم ہو گیا اخراجات اور اسلام آباد کی دوری وہاں کے قیام کے اخراجات یونینوں کے بس میں نہیں رہے او ر آج آزاد ٹریڈ یونینوں کو نظام عملاً غیر موثر ہو گیا ہے ۔
2002کا انڈسٹریل رلیشن ایکٹ ایک کا کالا قانون تھا جو کہ جنرل مشرف نے نافذ کیا تھا اس قانون کو اس وقت کے ریلوے کے وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) قاضی احسان نے مرتکب کیا تھا جب کہ اس وقت کے لیبر منسٹر اویس غنی جو کہ لیبر منسٹر تھے کی حیثیت ثانوی تھی اعتراضات کے باوجود ایمپلائز فیڈریشن کے تعاون سے جنرل قاضی نے مرتب کیا اور اس کے خلاف ملک کی تمام فیڈریشن نے ملک گیر احتجاج کیا تھا اس قانون میں برطرفی /ڈسمس کے خلاف ایمپلائر کا پرانا مطالبہ کے برطرفی /ڈسمس پر بحال کرنے کے بجائے صرف کمپن سیشن کی ادائیگی کی جائے اور اس کے بجائے کمپن سیشن دینے کی شق کا شامل کیا جائے 2002کے قانون میں اس کو شامل کیا گیا جب کہ سندھ کی لیبر ٹریبونل اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے فاران شوگر ملز Vsعبد الکریم منگوانوکے کیس میں اس کی نفی کی ہے او ر مکمل واجبات کے ساتھ بحال کرنے کا حکم دیا ہے 2008کے انڈسٹریل رلیشن ایکٹ کی نفاذ کے بعد اس کالے قانون سے نجات ملی ۔
2008کے انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ کے بعد سندھ کے صوبائی وزیر محنت امیر نواب کی صدارت میں 9مئی 2009کو سندھ کی سطح پر صوبائی مشاورت کا انعقاد کیا سندھ کی تمام معروف فیڈریشن کی اتفاق رائے سے لیبر پالیسی کا ڈرافٹ بنایا گیا اس پالیسی میں مزدور رہنمائوں نے تحریری طور پر جو نکات پیش کیے۔ اس میں جو نمایاں بعد تحریر کی گئی کے لیبر پالیسی کی بنیاد ایسی مرتب کی جائے جو ILOکے توثیق شدہ کنونشن اور شفارشات کی بنیاد پر تشکیل پانی چاہے اور ان معیارات کی قانون سازی میں جھلک نظر آنی چاہیے کانفرنس میں ورکرز نمائندوں کی جانب سے اتفاق رائے کی ساتھ میمو رنڈم پیش کیا گیا جس کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
(2 صنعتی تعلقات اور صنعتی امن ، (3 روزگار کے فروخت، (4 ورکرز ویلفیئر فنڈ ، (5 سوشل ڈائیلوگ (6 عملی پروگرام انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودا کاری، (7 لیبر قانون سازی ، (8 پیداواریت، (9 روزگار اور ہنر مند، (10 چائلڈ لیبر اور بائونڈیڈلیبر کا خاتمہ، (11 کام کی جگہ پر خواتین کے خلاف امتیازی طرز عمل ، (12پشاوارنہ صحت اور حفاظت، (13 تعمیراتی لیبر ، (14 بیرون ملک روزگار اور نکل مکانی ، (15 ورکرز ویلفیئر بورڈ، (16 اجرتیں، (17 سوشل سیکورٹی، (18 ہائوسنگ، (19 سہ فریقی لیبر کانفرنس اور فیڈریشن کے نمائندہ اور با صلاحیات افراد کا نامزکرنا۔
ان نقات پر جن معروف فیڈریشن کے عہدیداروں نے دستخطکیے
قموس گل خٹک(متحدہ لیبر فیڈریشن)، نور محمد(پورٹ ورکز فیڈریشن پاکستان)، محمد احمد (پاکستان ورکرز فیڈریشن)، ملک رفیق (آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر)، شوکت علی (آل پاکستان ٹریڈ یونین کانگریس )، رانا محمود علی خان(نیشنل لیبر فیڈریشن )، خلیل الرحمن (آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر)، عبد الحئی (سندھ مزدور فیڈریشن)، عزیز عباسی (وطن دوست فیڈریشن)،عبد المتین شیخ (پاکستان کنسٹرکشن ورکرز فیڈریشن)، بشیر احمد(آل پاکستان ٹریڈ یونین آرگنائزیشن)، فریدہ ظہیر (پاکستان نیشنل ٹیکسٹائل لیدرگارمنٹ اینڈ جنرل ورکرز یونین )۔
نوٹ-:فیڈریشن کے نمائندوں نے جو تحریری نقات پیش کیے۔ اس کی پوری تفصیل پروفیسر شفیع ملک کی مشہور کتاب پاکستان میں انجمن سازی کی آزادی اور اجتماعی سودا کاری کی صفحہ 79سے 90پر موجود ہے اور اسی طرح سے ایمپلائر فیڈریشن نے جو تجاویز پیش کی وہ صفحہ91سے 95تک موجود ہے۔
ملک میں بے پناہ لیبر قوانین ہیں جس کی تفصیل کچھ یوں ہے جبکہ یہ تفصیل مکمل نہیں ہے۔
(1)صنعتی تعلقات ایکٹ2012، (2) پنجاب صنعتی تعلقات ایکٹ2010، (3) سندھ صنعتی تعلقات ایکٹ2013، (4)خیبر پختونخواہ صنعتی تعلقات ایکٹ2010، (5) بلوچستان صنعتی تعلقات ایکٹ2010،(6) مغربی پاکستان صنعتی اور تجارتی ملازمت (اسٹینڈنگ آرڈرز) آرڈیننس1968، (7)پراونشل ایمپلائز سوشل سیکورٹی آرڈیننس1965، (8) قانون معاوضہ کارکنات1923، (9) ادائیگی اجرت ایکٹ1936، فیکٹریز ایکٹ ، (10) فیکٹریز ایکٹ 1934، (11)ملازمین کے بڑھاپے کے مفاد کا قانون1976، (12) مزدوروں کی بھلائی کے فنڈ کا آرڈیننس1971، (13) قانون اقل اجرت 1961، (14)خیبر پختوانخوازچگی فوائد ایکٹ2013، (15) خیبر پختو نخوا ادائیگی اجرت ایکٹ2013،(16) خیبر پختونخوا ورکرز معافضہ ایکٹ2013، (17) خیبر پختونخوا صنعتی اور تجارتی ملازمت (اسٹینڈنگ آرڈرز)ایکٹ2013، (18) خیبر پختونخوا کم از کم اجرت ایکٹ 2013، (19) خیبر پختو نخوا فیکٹریز ایکٹ2013، (20) خیبر پختو نخواہ انڈسٹریل سٹیٹکس ایکٹ2013، (21) ملازمین کے بچوں کا (تعلیمی) آرڈیننس 1972، (22) مغربی پاکستان شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈیننس1969، (23)مغربی پاکستان میں دکانوں اور اداروں کے قواعد 1969، (24) مائنیز ایکٹ1923، (25) اخباری ملازمین کا (شرائط ملازمت )ایکٹ1973، (26) قانون کا رآموزی آرڈیننس1962،(27) کمپنیز پرافٹس (ورکرز پارٹی اسیپیشن)ایکٹ1968، (28) بانڈ ڈلیبر سسٹم (ابولیشن) ایکٹ1992، (29) ملازمین کا خرچہ گزارہ (دادرسی) ایکٹ 1973، (30)قانون مہلک حادثات 1855۔
٭اب ان قوانین کو کم کیا جا سکتا ہے جسٹس (ر) شفیع الرحمن کمیشن نے اپنے رپورٹ میں جو کہ 30-09-2000 کو حکومت میں پیش کر دی گئی ہے میں تمام قوانین کو 6قوانین میں تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے جو کہ (1) صنعتی تعلقات (2)شرائط ملازمت (3)اجرت(4) انسانی وسائل کی ترقی(5) پیشہ وارانہ تحفظ،(6) لیبر ویلفیئر اور سوشل سیفٹی نیٹ ، لیکن 20-09-2000کو جسٹس (ر) شفیع الرحمن کی یہ رپورٹ حکومت کو پیش کر دی گئی ہے لیکن اس رپورٹ سے اب تک فائدہ نہیں اٹھا سکے اس رپورٹ کو منظر عام پر بھی آنا چاہیے تا کہ اس بنیاد پر کوئی آئندہ اچھی اور موثر لیبر پالیسی مرتب کی جا سکے ۔
٭تجاویز اور مشورے
(iمستقبل کی لیبر پالیسی ایسی مرتب کی جائے جس کا عنوان یہ ہونا چاہیے کہ تمام حقوق محنت کشوں کے لیے۔
(ii صنعتی نظام کے لیے باہمی تعلقات محنت کشوں CBAیونین اور آجروں کے درمیان بہتر تعلقات کا ہونا ضروری ہے اس سلسلے میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد نے اپنے مقالے میں کہا کہ
’’ جس معاشرے میںانصاف نہ ہو وہاں سے اﷲ کی رحمت اٹھ جاتی ہے اور جہاں اﷲ کی رحمت نہ ہو وہاں زندگی نہیں موت ڈیرے ڈالتی ہے کسی بھی معاشرے کی بقاء اور نشوونما کے لئے انصاف کا ہونا بہت ضروری ہے ‘‘
لیکن غریب محنت کشوں کے لیے اس میں انصاف نہ ہونے کے برابر ہے کئی کئی سال انتظار کرنے کے باوجود محنت کش کو لیبر کورٹ ، لیبر ٹریبونل، ہائی کورٹ اور NIRCسے انصاف نہیں ملتا ملتان ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسا نے اپنی تقریر میں یہ جملے کہے جو بڑی اہمیت کے حامل ہیں آپ نے کہا۔
’’عدالت میں ایک جج فیصلے کے لیے موجود ہے دونوں فریقین کے وکلاء اپنے دلائل دینے کے لیے روسٹم پر موجود ہیں 20سے زائد وکیل بھی عدالت کے کمرے میں موجود ہیں اور40سائل بھی موجود ہیں جو فیصلہ کے انتظار میں ہیں اور اسی کمرے عدالت کے دروازے پر نائب قاصد بھی موجود ہے یہ تمام افراد دونوں فریقین کے وکلاء کے دلائل سنتے ہیں جج صاحب دلائل سننے کے بعد فیصلہ نہیں دیتے ہیں تو ایسے جج اور عدالت میں دروازے پر کھڑے ہوئے نائب قاصد میں کوئی فرق نہیں ہے ‘‘۔
حقیقت یہ ہے کہ NIRC،لیبر کورٹ، لیبر ٹریبونل اور ہائی کورٹ میں لمبی کاسٹ لسٹ آویزاں کی جاتی ہیں اور فیصلے نہیں سنائے جاتے ۔
٭انصاف کے حصول کو آسان بنایا جائے اور لیبر اداروں اور لیبر کورٹس میں سمری پروسیڈنگ کا پابند بنایا جائے ۔
٭یونینز کو مقدمہ بازی سے پرہیز کرنا چاہیے قانون میں ترامیم کا یہ مقصد نہیں ہونا چاہے کہ یونینز مقدمہ بازی کے رجحان سے پرہیز کرے اور کوشش یہ ہونی چاہیے کے صنعتی تنازاعات کو موثر بنانے کے لئے ادارے کے اندر ہی تنازاعات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
٭ورکنگ Womenکو کام کرنے کے لیے بہتر اور اچھا ماحول فراہم کیا جائے اور مغرب کی بعد کسی خاتون ورکرز کو فیکٹری میں کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے خواتین ورکرز سے برابری اور مساوات کا سلوک کیا جائے۔
٭کرپشن سے پاک ٹریڈ یونین اور فیڈریشن خود احتسابی کا نظام قائم کرے اور کرپشن سے پاک ٹریڈ یونین اور فیڈریشن کی تصور کو قائم کیا جائے ۔
٭ILOکے کنونشن 144 جس کی پاکستان نے توثیق کی ہے کے میرٹ کی بنیاد پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ اس بنیاد پر سہ فریقی فورم اور گورننگ باڈی میں حقیقی مزدور نمائندے نامزد کرنے سے اس ادارے میں بہت سی خرابیاں ختم کی جا سکتی ہیں ۔
٭حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم اﷲ رب العالمین اور رسول اکرم ؐ رحمت العالمین کی ہدایت کو سامنے نہ رکھیں جو کہ تمام عالم کو اﷲ رب ہے اور رسول اکرم ؐتما م عالم کے رحمت العالمین ہیں نہ کے صرف مسلمانوں کے آپ نے فرمایا ہے کہ ایک انسان کی جان کو قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے اور انسان کی حرمت خانے کعبہ سے بھی زیادہ ہے آپ نے ایک صحابی ؓ سے ہاتھ ملایا تو آپ نے صحابی سے پوچھا کہ آپکے ہاتھ اتنے سخت کیوں ہیں صحابی نے فرمایا کہ یا رسول اﷲ میں پتھر توڑنے کا کام کرتا ہوں آپ نے اس کے ہاتھ چومیں اور کہا الکاسب حبیب اﷲ مزدور اﷲ کا دوست ہے آپ نے ایمپلائر سے کہاکہ آپ کے ہاتھ کے نیچے کام کرنے والوں کو وہ ہی کہلائو جو خود کھاتے ہوئے جو خود پہنتے ہو ویسا لباس دو ان پر اتنا نہ بوجھ ڈالو جو ان کی طاقت سے زیاد ہ ہو ان کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو آپ نے فرمایا قیامت کے دن میر ے ساتھ غریب محنت کش ساتھ ہوں گے اور اس پر آپ نے فخر کا اظہار کیا اس لئے ہر ٹریڈ یونین اور فیڈریشن کو اﷲ کے رسول ؐ کے اپنا حقیقی نجات دہندہ سمجھیں اور اس پر فخر محسوس کریں ایک اچھا ٹریڈ یونین وہ ہے جو دیانت داری سے 8گھنٹے رزق حلال کے حصول کے لیے ایمانداری سے ڈیوٹی کرے اور پھر اپنے حقوق کے لیے بھر پور آواز اٹھائے اس میں کوئی رعایت نہ کرے ہم اس پر عمل کریں تو ہم بہت سے مسائل کو حل کر سکتے ہیں ۔
٭دو طرفہ صنعتی نظام کی بنیادی شرط یہ ہے کہ محنت کشوں کی ٹریڈ یونین کو ایمپل