طالبان دوسرے سیاسی گروپوں کو ساتھ لے کر چلیں،پیر اعجاز ہاشمی

89

لاہور(آن لائن)جمعیت علما ئے پاکستان(جے یو پی)کے مرکزی صدراورنائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے کہا ہے کہ طالبان کو دہشت گرد قرار دینے والے امریکا نے انہیں سیاسی قوت تسلیم کرکے تمام مطالبات مان لیے ہیں، افغان حکومت کو بھی انہوں نے مذاکراتی عمل میں شامل نہیں ہونے دیا،امریکا کو بری طرح شکست کے بعد افغانستان سے نکلنا پڑ رہا ہے، 19 سالہ افغان جنگ کے دوران ہزاروں معصوم لوگوں کی زندگیاں ختم ہوئیںاورامریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ جے یو پی میڈیا ٹیم سے گفتگو کرتے
ہوئے انہوں نے کہا کہ 14 ماہ کے دوران امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا بڑا چیلنج ہوگا اور امن معاہدے کے نتائج کا انحصار فریقین کی طرف سے عملدرآمد پر ہے۔پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا کبھی حل نہیں رہا،دوسرے ممالک میں مداخلت سے روس کو کچھ ملا اور نہ ہی امریکا کو،ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے جنگوں کا حل نکالا جاسکتا ہے ،جنگ اور افراتفری سوائے ترقی کے سفر میں رکاوٹ ہے،افغانستان میں امن ہونا چاہیے اور اس کے لیے عالمی طاقتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان نے بھی افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کرانے میںقابل تعریف کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو بھی دوسرے سیاسی گروپوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، اگر دوسرے سیاسی گروپوں کی حیثیت کو تسلیم نہ کیا گیا تو امن معاہدے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔