’’پاکستان میں تاخیر سے شادیوں کا رجحان

954

حمیدہ بتول
عروج ایک ۰۳ سالہ نوجوان لڑکی ہے اس نے دو مضامین میں ایم اے کیا ہوا ہے ۔وہ اپنا سکول کامیابی سے چلا رہی ہے دو سال کے اندر سکول میں طلبہ کی تعداد ڈبل ہو گئی ہے وہ بہت خوش ہے لیکن اب تک وہ غیر شادی شدہ ہے حصول تعلیم کے دوران اچھے رشتے آتے رہے لیکن وہ نہ مانی بعد میں اسے اپنا کیرئیربنانا تھا تو شادی ٹلتی رہی اب اس کی امی پریشان ہیں کیونکہ اس کے لیے آنے والے رشتے بہت کم ہوگئے ہیں جو رشتہ آتا ہے وہ تعلیمی اور معاشی لحاظ سے اس کے لیول سے کم ہو تا ہے اس لیے ابھی تک شادی کامعاملہ حل نہیں ہو سکا ہمارے معاشرے کے پچاس فیصد گھرانوں کایہ المیہ ہے کہ بچیوں کی شادیاں تا خیر کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہیں بڑھتی عمر کے ساتھ یہ مسائل گھر میں اچھی خاصی ٹینشن پیدا کر دیتے ہیں یہ مسائل بچے اور بچیوں دونوں کے ساتھ ہیں لیکن مخصوص معا شرتی ما حول کی وجہ سے بچیاں اس کاذیادہ شکار ہوتی ہیں ایک سروے کے مطا بق پچھلے پچیس سال میں اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے
پاکستان میں تا خیرسے شادیاں ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک سروے کیا گیاہے جس میں پاکستان کے شہری علاقوں کی ۱۵۶خواتین سے معلومات اکھٹی کی گئیں ان وجوہات میں ذات ،مردوں اور عورتوں میں تعلیم کا فرق ،کچھ گھرانوںمیںبنیادی ضروریات کا پورا نہ ہونا،لڑکیوں کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا اور پھر پیشہ ورانہ زندگی اختیار کرنا ،مہنگی شادیاں ،اسلام کے علم کی کمی ،عورتوں کا شادی اور شوہر کے بارے میں بہت زیادہ
توقعات وابستہ کرنا سو شل میڈیا اور میرج بیوروکے فراڈ کیسز،طلاق کاڈر ،شادی کا فیصلہ نہ کر سکناشامل ہیں ۔
مردوں میں دیر سے شادی کی وجوہات میں کیرئیر بنانا ،زیادہ دولت حاصل کرنا ،خاندان کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کے ہوجانا،اپنے باپ اور بہن بھائیوں کی کفالت کی ذمہ داری ایک خاص سٹیٹس(گھر گاڑی وغیرہ)کا حاصل کر لینا شامل ہیں بعض مرد ذمہ داریاں نہ اٹھانے کی وجہ سے شادی میں تا خیر کرتے ہیں اور بعد میں انھیں شریکِ زندگی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے لیکن اب کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔
اس سروے کے مطابق دیر سے شادی کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے نتائج ہیں منفینتائج میں ذہنی ،جسمانی اور طبی نقصانات شامل ہیں ۔دیر سے لڑکوںاور لڑکیوں دونوں میں ڈپریشن اور ذہنی خلفشار پیدا کرتی ہے لڑکیوں میں اکیلے رہ جانے کا خوف اور فیملی بنانا جوکہ ہر انسان و جانورکی فطرت ہے اس سے محروم رہ جانے کا خوف ہے یہ خوف مردوں میں بھی پیدا ہوجاتا ہے جبکہ ان دونوں میں عزت نفس کا مجروح ہونا اور اپنے اوپر اعتماد میں کمی اور احسا س کمتریکے رجحانات بھی پیدا ہوجاتے ہیں جسمانی طور پر اور طبی طور پر بھی لڑکیاں دیر سے شادی کے نتیجہ میں ماں بننے کے دوران مسائل کا شکار ہوجاتی ہیں جبکہ مردوں اور عورتوں دونوں میں بانجھ پن کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں آجکل طبی
وپیچیدگیاں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ڈاکٹر ز۳۵سال کے بعد ماں بننے سے منع کر رہے ہیں اس طرح یہ مسائل اور بھی سنگین ہوتے جارہے ہیں
ٓوہ مکہ کی کامیا ب اور امیر ترین خاتون تھیںاچھا گھر ،اچھی زندگی،بچے سب کچھ انہیں حاصل تھا ان کی باوقا شخصیت اور معاشرتی حیثیت کی وجہ سے کئی معزدین متی کہ ابوجہل (عمربن ہیشام)نے بھی رشتہ کاپیغام بھیجا تھا مگر انہوں نے انکار کردیا ۔حضرت خدیجہاس بے داغ کردار
کے نوجوان کی پہلے ہی تعریف سن چکی تھی اب وہ اس کاروباری معاملہ فہمی اور کردارکی خوبیاں پرکھنا چاہتی تھیںانہوں نے میسرہ کو محمدﷺکے معاون کے طور پر تجارتی سفر میں بھیج دیا جب اس نے واپس آکر تفصیل سے آپﷺکی شخصیت کے پہلوانہیں بتائے تو انہوں نے اعتراف کر لیا کہ یہی وہ شخص ہے جو ان کی روح کا ساتھی بن سکتا ہے جو ان کی زندگی میں خوشیوں کا سفیر بن سکتا ہے اور جب ان کا نکاح نبیﷺ سے ہوا تو ابو جہل نے جل کر کہا ـ’’اسے قریش کے یتیم کے سواکوئی اور نہیں ملا ‘‘یہ ہیں ہماری امی خدیجہ اور اسلام کی خاتونِ اول یہ بہترین کیرئیرہیں ان کی زندگی اور شریک زندگی کے لیے ان کا معیار دیکھیے یہی دراصل قابل عمل نمونہ ہے اور زندگی کو خوشی اور سکون سے معمورکرنے کا نسخہ بھی ۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ تعلیمی نظام اور میڈیا اور والدین کی تربیت کے ذریعے بچو ں کی اس پہلو سے مناسب تربیت کی جائے انہیں ایک اچھے ازدواجی تعلق کے اجزاء سے اگاہ کیا جائے گا اور یہ سمجھایا جائے کہ محبت محض ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذمہ داری لینے کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے ایک میچورتعلق اور رشتہ کے بنیا دی اجزاء میں متفقہ مقاصد (COMMONGOALS )اکھٹے رہنے کا مخلصانہ جذبہ
A SINCERE DESIR TO BE TOGETHER اور اپنے متعلقہ رشتوں پر اپنی پوری توجہ اور قوت کو فوکس کرنا
FOCUSING ATTENTION ENERGY ON ONE AND SAME PERSONS })شامل ہے
حضرت عا ئشہؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں ان کی آنا آئی ان کو بلا لے گئی حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے ان کا نکاح پڑھا دیا پانچ سودرہم مہر مقرر ہوا ۔آج ہماری تقریبات حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ،ہزاروں کا مہر ،لڑکیوں کا جہیز ،اور منگنی دوسری رسموں پر اس قدر خرچ کہ دیوانہ
پٹ جائے لیکن کرتے وہی ہیں جس پر آخر میں سب روتے ہیں اگر یہ سب ناموں نمود کے لیے ہیں تو سوچیں کہ حضر ت ا بوبکر ؓ وقت کے رئیس اورحضرت عائشہؓباعزت ترین عورت ہیں اور اگر دماد کی خوشنودی کے لیے کرتے ہیں تو نبی ﷺجیسا عالی داماد کون ہوگا ؟
معاشرے کو ان مجبوریوں سے نکالنے کے لیے معاشرتی ڈھانچہ کی اصلاح کی ضرورت ہے اس میں ہمارے ایمان کی بھی خیر ہے اور دینا اور آخرت دونوں کی بھلائی اسی میںہے ۔