عورت آزادی مارچ (حصہ دوم و آخر)

348

یہاں تک تو بات واضح ہے کہ عورت آزادی مارچ کے منتظمین کا محنت کش خواتین سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ ان کے حقوق کے متعلق کسی تشویش میں مبتلا ہیں۔ تاہم ان منتظمین نے 8 مارچ کا دن اپنی تحریک کے لیے ضرور چنا ہے اور عمومی طور پر بھی لوگ اس دن کو محنت کش خواتین کے دن کے بجائے یوم خواتین ہی سمجھ رہے ہیں۔ عورت آزادی مارچ کے اب تک جتنے بھی شرکاء￿ رہے ہیں ، ان سب کا تعلق این جی اوز سے ہے اور این جی اوز میں کام کرنے والے سو فیصد تنخواہ دار ملازم ہوتے ہیں۔ یہ تنخواہ دار ملازم اپنی روٹی روزی کے لیے مالکان کا حکم اسی طرح مانتے ہیں جس طرح وفادار کتے اپنے مالک کے حکم پر اپنی ہی نسل پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
ایک عالمگیر حکومت کے قیام کی کوشش کرنے والوں نے ہر ادارے کو اس کا کام کرنے کے لیے ایک میدان متعین کردیا ہے۔ مثال کے طور پر ملنڈا اینڈ بل گیٹس فاونڈیشن کا دائرہ کار صرف بیماریوں کے پھیلاو اور ان کی ویکسین تک ہی محدود ہے۔ زیکا ، ایبولا اور اب کرونا وائرس ، ان سب پر کام کی فنڈنگ ملنڈا اینڈ بل گیٹس فاونڈیشن ہی نے کی۔ اسی طرح دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی کے لیے تحاریک کو منظم کرنے اور انہیں مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کی ذمہ داری جارج سوروس کی اوپن فاونڈیشن کی ہے۔ یہ ادارہ امریکا میں اکوپائی وال اسٹریٹ سے لے کر رنگین انقلابات لانے والوں تک کو بے دریغ فنڈز فراہم کرتا رہا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی ادارہ ان تمام این جی اوز کو فنڈز فراہم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی وکلاء تحریک کی بھی فنڈنگ اوپن فاونڈیشن نے کی تھی۔
دسمبر کے اوائل میں “کیا پاکستان میں رنگین انقلاب کے لیے اسٹیج تیار کیا جارہا ہے” کے عنوان سے میں نے چار آرٹیکل سپرد قلم کیے تھے۔ یہ آرٹیکل میری ویب سائیٹ www.masoodanwar.wordpress.com
پر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے حصہ دوم سے ایک اقتباس۔ “سوالات یہ تھے کہ پاکستان میں طلبہ یونینوں کی بحالی سے عالمی کھلاڑیوں کو کیا دلچسپی ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کوئی سی بھی پارٹی ہو، اس کے پاس اس وقت اسٹریٹ پاور نام کی کوئی چیز بچی نہیں ہے۔ عمران خان کے اسلام آباد میں طویل دھرنے کے دوران ہر شخص نے ملاحظہ کیا کہ ہر طرح کی مدد و تعاون اور بھرپور وسائل کی فراہمی کے باوجود کتنے افراد اس دھرنے میں موجود تھے۔ بعض اوقات تو ان افراد کی تعداد چند درجن تک پہنچ جاتی تھی۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی جلسہ کرے تو اس کے انتظامات کے لیے بھی کارکن دستیاب نہیں ہوتے اور اب سارے ہی انتظامات آوٹ سورس کرنے پڑتے ہیں۔ صرف جمعیت علماء￿ اسلام ایک ایسی پارٹی بچی ہے جس کے پاس کسی حد تک اسٹریٹ پاور ہے مگر یہ ساری کی ساری مدارس کی مرہون منت ہے۔ مدارس کے طلبہ کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کی بھی وہی پوزیشن ہے جو دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کی ہے۔‘‘(کچھ استثنا کے ساتھ مرتب)
جدید دنیا میں حکومتوں کی عالمی کھلاڑیوں کی مرضی سے تبدیلی کے کھیل کو رنگین انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں پرانی تمام سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے بجائے نئے غیر معروف کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا جاتا ہے۔ ان کی مدد کے سوشل میڈیا کی تجربہ کار ٹیم موجود ہوتی ہے جو پس پردہ ہدایتکاروں کے مطابق کسی بھی قوم کو ایک مصنوعی خطرے سے دوچار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کی تازہ ترین مثال ہمارے سامنے ہے کہ پوری دنیا کو کورونا کے خطرے سے اس طرح ڈرایا گیا کہ لوگ ایک دوسرے سے ہی خوفزدہ ہوگئے۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے کروز شپ کو اپنی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ تین ہزار افراد کو لیے یہ کروز شپ ایک ملک سے دوسرے ملک گھومتا رہا اور کوئی ملک ان تین ہزار افراد کو خشکی پر آنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ یوکرائن میں اپنے ہی ملک کے باشندوں کو چین سے لانے کے خلاف لوگ احتجاج کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔ کروڑوں افراد کو ان کے گھروں میں محصور کردیا گیا۔ جس ملک میں کورونا کی افواہ اڑائی گئی ، اْس ملک کا ہر طرح سے مقاطعہ کردیا گیا ، ائرپورٹ بند، بندرگاہ بند، سرحدیں بند ، بین الاقوامی تجارت بند۔ یہ سب کچھ کسی فوج کشی کے بغیر کیا گیا۔ حالانکہ کورونا وائرس کی ہلاکت آفرینی عام فلو کے وائرس سے کئی سو گنا کم ہے۔
مستقل قریب میں پاکستان میں نئی لیڈر شپ کو کھڑا کرنے اور اسٹریٹ پاور کو منظم کرنے پر کام جاری ہے۔ یہ کام گزشتہ چار پانچ برسوں میں ہی شروع کیا گیا ہے۔ اس میں طلبہ، مزدور اور خواتین کو سڑکوں پر لانے کے لیے منظم کیا جارہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر سے ہانگ کانگ اور فرانس میں جاری تحاریک پر نظر ڈالیں اور پاکستان میں طلبہ اور خواتین کی اسٹریٹ پاور کی این جی اوز کے ذریعے ٹیسٹ ٹیوب پیدائش دیکھیں تو مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔
خواتین آزادی مارچ کے لیے دیے گئے متنازعہ سلوگن اسی لیے دیے گئے ہیں کہ ان کا سماج میں چرچا ہو اور لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں۔ بہتر ہوگا کہ ان نعروں سے قطع نظر اس مارچ کے منتظمین کے ہدف کو پہچانیں۔ گھر میں تعلق کو مضبوط بنائیں اور ان کے نعروں کے ٹرانس میں اپنے بچوں کو نہ آنے دیں۔ مصنوعی طلبہ یونین ہوں یا خواتین کی آزادی کی تنظیمیں ، انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر بھی خوب ملے گی اور انہیں فنڈز بھی بے دریغ ملیں گے ، اس کے سحر میں نہ آئیں۔ پہلے بھی اس بارے میں واضح کیا جاچکا ہے کہ 2020 اہم سال ہے۔ اس برس دنیا بھر میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ نیو ورلڈ آرڈر کے پس پردہ ہدایتکار 2025 میں نیو ورلڈ آرڈر کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔