پیک دودھ، آزاد میڈیکل پالیسی اور ہم ہجوم!

420

ہم ایسی لوگ ہیں جو کسی وائرس کو اس کے پھیلنے کی رفتار سے کہیں زیادہ قوت سے ’’وائرل‘‘ کردیا کرتے ہیں۔ جبکہ جن کام کی باتوں کو ہمیں فروغ دینا چاہیے اسے پڑھ کر، اس کے متعلق ویڈیو دیکھ اور سن کر بھی اس کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کے نقصانات سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم سب کو ’’ہجوم‘‘ کہا جاتا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس ہجوم سے پیکٹ اور ڈبوں والے دودھ کے مضر صحت ہونے سے متعلق خبر کیوں اوجھل ہوجاتی ہے۔ ہم سب آخر ایسی خبروں کو کیوں اہمیت نہیں دیا کرتے؟ چند روز قبل ڈبوں کے دودھ اور بیگ میں پیک دودھ کو عدالت عظمیٰ مضر صحت قرار دے چکی ہے۔ مگر قوم ایسے ہی اپنے معمولات میں مست ہے جیسے ہمارے حکمران۔ ویسے تو حکمرانوں اور حکومتوں کا نظام دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ سندھ کی حکومت کراچی میں چند روز قبل کراچی پورٹ سے پھیلنے والی زہریلی گیس ہی کا پتا نہیں لگا سکی تو وہ بھلا کرونا وائرس کے حوالے کیا کرسکے گی؟ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، ہمیں مثبت باتوں کی طرف توجہ دلانے والا کوئی نہیں کیونکہ ہم سب بڑے بڑے سیاسی چمپئنوں کی موجودگی کے باوجود ’’لیڈر لیس‘‘ (Leaderless) لوگ ہیں۔ ویسے بھی اپنے آپ کو لیڈر کہلوانے والے اب مجرم بن کر علاج کے بہانے سے ملک سے باہر جاچکے ہیں اور بعض ضمانتوں پر جیل سے بمشکل باہر آسکے ہیں۔ اگر ہماری چمپئن سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ہوتی تو ان کے مرکزی عہدیدار اس طرح ملزم اور مجرم نہیں بنتے۔ مجرمانہ ذہن کے ان ہی نام نہاد رہنمائوں کی وجہ سے آج ملک مسائل سے گھرا ہوا ہے اور نچلی سطح تک جمہوریت کے باوجود کرپشن برقرار ہے۔
ملک میں سرکاری اداروں سے تخلیق پانے والی اور کمیشن کے نام پر کی جانے والی کرپشن نجی اداروں کو بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی لپٹ میں لے چکی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ڈاکٹرز اور اسپتال بھی چند پیسوں کی خاطر نہ صرف اپنا ایمان بیچ کر ’’کمیشن‘‘ کے لیے مریضوں کو مالی دشواریوں کے ساتھ نئی بیماریاں بھی دے رہے ہیں۔ ایک محتاط جائزے کے مطابق ملک بھر میں جنرل پریکٹشنرز (جی پی) اور کنسلٹنٹ کی بڑی تعداد من مانی فیس وصول کرنے کے ساتھ مریضوں کو مہنگی اور غیر ضروری ادویات کے نسخے لکھ دیا کرتے ہیں جو مخصوص میڈیکل اسٹورز ہی سے خریدے جاسکتے ہیں۔ ایسے طبی معالج کا ادویات کی کمپنیوں سے بھی براہ راست تعلق رہتا ہے جو انہیں اپنی پروڈکٹس کی فروخت کا ہدف پورا ہونے پر بھاری رقوم کے ساتھ اب بیرون ملک کے دورے بھی کراتی ہیں۔ ایسے ڈاکٹرز کو مریض کی مالی حالت سے کوئی غرض نہیں ہوتی ان کا مقصد مریض کو شفاء یاب کرنے سے زیادہ ادویات کی کمپنی کے دیے گئے ہدف کو پورا کرکے زیادہ سے زیادہ کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ملک میں ڈرگ کنٹرول اتھارٹی ہونے کے باوجود کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں پائی جانے والی غربت کے باوجود جی پی ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویات میں سے 90 فی صد مہنگی برانڈڈ ادویات ہوتی ہیں، حالانکہ ان میں سے اکثر ادویات کے سستے متبادل مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق دو ادویات لکھی جاسکتی ہیں مگر ہمارے ملک میں یہ تعداد فی نسخہ تقریباً چار ہوچکی ہیں۔ جو ڈبلیو ایچ او کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور جی پی مریضوں کو اسپتال یا اپنے کلینک ہی سے ادویات دیا کرتے تھے لیکن اب برانڈڈ ادویات لکھنا ڈاکٹروں کی ترجیحات میں شامل ہوچکا ہے۔ پاکستان میں اب تک ڈاکٹرز کی فیس کا بھی کوئی تعین نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی مختلف لیبارٹری ٹیسٹ چارجز کا کوئی قانون ہے۔ طب سے متعلق کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ وہی سیاستدان ہیں جو اپنے آپ کو عوامی رہنما اور نمائندے تو کہتے ہیں مگر انہیں علاج معالجہ کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی طبی پالیسی ہی موجود نہیں یہاں نجی اسپتالوں، ڈاکٹرز اور لیبارٹریز کو آزاد چھوڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ بلا خوف من مانے چارچز اور فیس وصول کیا کرتے ہیں۔ جبکہ ڈاکٹرز صرف ادویات کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنی خدمات پیش نہیں کرتے بلکہ وہ میڈیکل لیبارٹریز کی آمدنی بڑھانے کے لیے بھی اپنا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسی لیے یہاں جاری و ساری ہے کہ قوم کے مسائل اور ضروریات کا احساس کرنے والے سیاسی نمائندوں کا فقدان ہے۔ یہاں کے بڑے اور چمپئن سیاست دان ملک سے باہر جاکر علاج کرانے کو ترجیح دیا کرتے ہیں۔ انہیں اپنے سوا کسی اور کا خیال ہی نہیں ہوتا۔ ہمارے سیاست دان صرف اقتدار حاصل کرنے کے لیے سیاست کیا کرتے ہیں، اس لیے جب وہ اقتدار مین نہ ہو تو بیمار ہوکر یا بیماری کا بہانہ بناکر ملک سے باہر چلے جایا کرتے ہیں۔ ایسے سیاستدانوں کی موجودگی میں بھلا کیسے عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں یا لوگوں کی ضروریات پوری ہوسکتی ہے؟