امن معاہدہ، سازشیں جاری ہیں

357

دوحہ میں امارت اسلامیہ افغانستان اور امریکا کے مابین 150 ملکوں کے نمائندوں کی موجودگی میں ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم ہر جگہ کیا جا رہا ہے لیکن گزشتہ معاہدوں اور امریکا کی تاریخ کے تناظر میں بہت سے شبہات ہیں۔ ابھی افغان امن معاہدے پر دستخط ہی ہوئے ہیں اصل معاملہ عمل درآمد ہے اور اس حوالے سے سازشیں بھی شروع ہو گئی ہیں بلکہ اس سے پہلے ہی ایسے اشارے ملے تھے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ہفتے قبل کہا تھا کہ اگر طالبان نے امن قائم رکھا تو معاہدہ برقرار رہے گا۔ یہی بات اب امریکی محکمۂ دفاع نے کہی ہے کہ طالبان نے وعدہ خلافی کی تو معاہدہ منسوخ کر دیں گے۔ دوسری بدنیتی یہ ہے کہ امریکا نے افواج کا انخلاء امن سے مشروط کیا ہے حالانکہ امن تو فوجی انخلاء سے مشروط ہے۔ 20 برس سے اسی مسئلے پر تو جنگ ہو رہی ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کا کیا کام۔ حقیقت یہ ہے کہ امن بھی امریکی رویے پر منحصر ہے۔ امریکا ہی افغانستان میں فوج لایا۔ امریکا ہی نے ہر امن معاہدے کے موقع پر اس سے پہلے یا فوراً بعد کوئی حملہ کرکے کسی نہ کسی رہنما کو نشانہ بنایا ہے یا کہیں پر تخریب کاری ہوئی ہے جس کے بعد معاہدے پر عملدرآمد ملتوی ہو جاتا ہے۔ تاہم اس مرتبہ 150 ممالک کو شامل کرانے کا فیصلہ بھی اچھا ہے شاید اس کی پاسداری ہو سکے حالانکہ امریکا نے کبھی دو سو ممالک سے شرم نہیں کی تو 150 ممالک اس کو کیا کہہ لیں گے۔ طالبان نے جس امر کی ضمانت مانگی ہے کہ اب افغانوں کو اپنے معاملات سے خود نمٹ لینے دیں لیکن امریکی وزیر دفاع اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل کابل میں سرگرم ہیں ان کی سرگرمی افغان حکومت سے مذاکرات ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کو اعتماد میں لینے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ افغان حکومت کو پہلے اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ اب فساد پھیلانے کے امکانات اپنے ذمے داروں کی مدد سے پیدا بلکہ بڑھائے جا رہے ہیں۔ چنانچہ امریکی وزیر دفاع کی کوششیں رنگ لائیں اور افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے مطالبے پر پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کو معاہدے کی پیشگی شرط قرار نہیں دیا جاسکتا۔ طالبان کو بھی ایک ہزار قیدی رہا کرنے ہیں۔ یہ سازش تو بالکل سامنے اور کھلی ہوئی ہے۔افغانستان میں امن کی بنیادی شرط غیر ملکی افواج کا انخلاء ہے اس حوالے سے امریکا کی بدنیتی ظاہر ہو رہی ہے۔ لیکن طالبان جس مستقل مزاجی اور حکمت عملی کے ساتھ امریکا کو اس نہج پر لے آئے ہیں وہ اللہ کی رحمت سے اگلے مراحل بھی عبور کر لیں گے۔ آنے والے دن بہت نازک ہیں کوئی بھی حادثہ سازش یا غلطی سارے معاہدے کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ امریکی وزیر دفاع کابل میں کیوں سرگرم ہیں اور پہلے سے طالبان کے بارے میں یہ کیوں کہا گیا کہ امن کی ضمانت طالبان دیں… امن کی ضمانت تو جارح قوت کو دینی چاہیے، مدافعت کرنے والوں کو نہیں۔ بہرحال سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمتیار نے کہا ہے کہ معاہدے کی کامیابی کا دارومدار امریکا کی جانب سے عملدرآمد پر ہے اور یہی بات درست ہے۔ دنیا بھر میں تاثر دیا جا رہا ہے کہ بے چارے افغان عوام جنگ زدہ ہیں لیکن یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ افغان آزاد قوم ہیں غلامی ہرگز قبول نہیں کرتے۔ حملہ آوروں کے ساتھ صدیوں سے ان کا ایک ہی سلوک ہے جو امریکیوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ لہٰذا امریکی اگر جنگ سے بچنا چاہتے ہین اور امن کے اپنے دعووں میں سچے ہیں تو معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل کریں کوئی سازش اب نہیں چلے گی۔