افغان صدر کا طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار

225

 

کابل(خبرایجنسیاں) افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امن معاہدے کے اگلے ہی روز طالبان کے5ہزار قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا۔ دارالحکومت کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امن معاہدے کے تحت 5 ہزار زیر حراست طالبان قیدیوں کی رہائی کا استحقاق امریکا کا نہیں بلکہ کابل حکومت کا ہے اور یہ اگلے مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں طے پائے گا۔اشرف غنی کا کہناتھا کہ طالبان رہنماؤں اور مزاحمت کاروں کی رہائی کا فیصلہ امریکا کو نہیں بلکہ افغان حکومت کوکرنا ہے جب کہ ہم نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے ۔افغان صدر نے کہاکہ طالبان اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات کو طالبان کی رہائی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا تاہم اس ڈیل میں طالبان کی حراست میں ایک ہزار افغان
سرکاری اہلکاروں کو آزاد کرنے کے بدلے افغان جیلوں میں قید 5ہزار طالبان کو رہا کر دینے کی بات کی گئی ہے اور یہ معاملہ انٹرا افغان مذاکرت میں رکھا جاسکتا ہے جس میں باہمی مشاورت سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں افغان صدر نے کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات کے لیے اگلے 9 دنوں میں مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی جائے گی فی الحال فریقین کے درمیان 7 روزہ جزوی جنگ بندی ہے تاہم مکمل جنگ بندی کے حصول کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اپنائیں گے۔