انٹرا افغان مذاکرات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے،وزیر خارجہ

254

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا ہے کہ انٹراافغان مذاکرات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، معاملات خراب کرنے والوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، نہیں چاہتے داخلی سیاست قیام امن کے عمل پر حاوی ہوجائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےشاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل دوحہ میں ایک تاریخی دن تھا، افغان امن معاہدے پر فریقین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،پاکستان کی رائے میں یہ معاہدہ اہم پیش رفت ہے،معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ٹھوس قدم ہے،ایک مسلسل کاوش کے بعد یہ سفر طے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار دنیا بھر میں سراہا گیا،پاکستان پر نقطہ چینی کرنے والے کل معترف تھے، توقع ہےاب افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی جب کہ باہر کا کوئی فریق افغان حکومت پرفیصلہ مسلط نہیں کرسکتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امن معاہدے سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا،ناروے نے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی میزبانی کی حامی بھری،افغانستان کی قیادت اس پیش رفت میں کتنی لچک دکھاتی ہے،انٹراافغان مذاکرات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے،معاملات خراب کرنے والوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،نہیں چاہتے داخلی سیاست قیام امن کے عمل پر حاوی ہوجائے،پائیدار امن کا فیصلہ افغانیوں نے خود کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے عوام نے طویل جنگ دیکھی،اب وہ امن چاہتے ہیں،افغانستان کے عوام نے نقل مکانی اور دشواریاں دیکھیں، افغانستان میں امن ہوگا تو وہاں کے عوام سکھ کا سانس لیں گے، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے عالمی سپورٹ چاہیے ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قیدیوں کا معاملہ افغان حکومت اور طالبان کا ہے اس پر پیشرفت ہونی چاہیے، امید ہے صدر اشرف غنی اس معاہدے کی اہمیت کو سمجھیں گےاورماحول کو سازگار بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے،دونوں جانب سے قیدیوں کی رہائی سے اعتماد بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں ہم آہنگی کے موضوع پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے،ناروے کی وزیرخارجہ سے بھی افغان امریکا معاہدے پر بات ہوئی،ترکی کے وزیرخارجہ سے بھی ملاقات ہوئی، امن منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے دیگرممالک کی طرح ہم بھی مکمل معاونت کریں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہافغان امن معاہدہ آسان نہیں تھا،رکاوٹیں آئیں ان کومل بیٹھ کر حل کیا،جو سوچیں امن معاہدے میں رکاوٹ بنیں گی عالمی برادری ان کو سمجھائے گی۔