پولیس عوام پر منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کررہی ہے، اویس شاہ

83

شکارپور (نمائندہ جسارت) شکارپور میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ قادر اور وزیر اعلیٰ کے معاون خاص بندہ علی لغاری کی جانب سے کھلی کچہری۔ کھلی کچہری میں عوام کی جانب سے پولیس، صحت، پبلک، ہیلتھ، تعلیم، میونسپل، گیس اور سیپکو کے متعلق شکایات، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، شہر کی اکثر ایکسپریس لائنیں، گیس پریشر کے کم ہونے کی شکایات ،میونسپل کئی وارڈوں میں صفائی نہیں کروا رہی، پرائس چیکنگ نہیں کی جارہی ہے، سول اسپتال کو نجی ادارے کے حوالے کیا جائے، پولیس عوام پر منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کررہی ہے، عوام کی جانب سے کھلی کچہری میں شکایات، صوبائی وزیر کی میڈیا سے بات چیت۔ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر آفس شکارپور میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خاص بندہ علی لغاری کی جانب سے کھلی کچہری منعقد کی گئی۔ اس موقعے پر کھلی کچہری اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سید اویس قادر شاہ نے کہاکہ شکارپور میں میری یہ دوسری کچہری ہے جبکہ پچھلی کچہری کے مسائل کے حل کے متعلق ڈی سی شکارپور سے بریفنگ لی ہے۔ اس بریفنگ کے مطابق کچھ مسائل حل ہوئے ہیں اور کچھ مسائل جلد حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس دوسری کھلی کچہر ی میں سب سے زیادہ پولیس ، صحت اور صفائی ستھرائی کے متعلق شکایات ہوئی ہیں جبکہ سیپکو، سوئی گیس، تعلیم، ترقیاتی کاموں، پرائیس چیکنگ اور روینیو کے خلاف بھی شکایات ہوئی ہیں، انہوں نے کہاکہ جو بھی شکایات ہوئی ہیں ان میں کچھ کے لیے وہی پر احکامات جاری کرکے مسئلہ حل کیا ہے جبکہ کچھ شکایات کے حل کے لیے ڈی سی شکارپور رحیم بخش میتلو کو 4،5،6 مارچ پر پابند کیا ہے کہ وہ سب شکایا ت حل کریں ، جبکہ ڈپٹی کمشنر شکارپور کو یہ بھی واضع کیا ہے کہ سول اسپتال کیخلاف بہت زیادہ شکایات ہوئی ہیں، اسی لیے شکایات کنندہ گان، سول اسپتال کا عملہ اور ڈی سی سول اسپتال میں بیٹھ کر ان مسائل کا حل نکالیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی سی شکارپور کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ شکارپور کی سبزی مارکیٹ جاکر وہاں پر صفائی ستھرائی مہم کی نگرانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی شکارپور ڈاکٹر رضوان احمد کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ موٹر سائیکل چوری، غلط ایف آئی آر درج ہونے کی شکایات آفس میں بیٹھ کر خود سنے اور وہ شکایات حل کرے ۔انہوں نے کہاکہ ان شکایات کے حل ہونے کے بعد رپورٹ مجھے ارسال کی جائے جوکہ وہ رپورٹ وزیر اعلی سندھ کو بھیجی جائے گی۔