معاہدے سے افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھے گا، رحمن ملک

108

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر رحمان ملک نے امریکا طالبان معاہدے پر تشویش کا اظہار و تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے امریکا و افغان طالبان امن معاہدہ شکوک و شبہات سے بھرپور ہے۔ معاہدے کی شقوں کو ستمبر تک نشر نہ کرنے سے شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں۔ اپنے ایک بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ امن معاہدے میں اسلامی امارات افغانستان کا لفظ شامل کرنا قابل تشویش ہے۔ معاہدہ امریکا کے فائدے میں ہے مگر افغانستان بدستور خانہ جنگی کی طرف بڑھے گا۔ امن معاہدہ تب کامیاب ہوتا جب افغانستان کے سارے دھڑے اس عمل کا حصہ ہوتے، افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف افغان عوام کو ہے۔ امن معاہدے کے 2 حصے ہیں پہلا امریکا و افغان طالبان و دوسرا افغان قیادت کا آپس میں مذاکرات کا ہے، امریکا طالبان معاہدہ بنیادی طور پر امریکی و اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا ہے، امریکی و اتحادی افواج کے انخلا سے ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ الیکشن میں فائدہ ہوگا امن معاہدے سے افغانستان 2 حصے میں بٹ گیا۔ ایک امارات طالبان و دوئم ریاست افغانستان، افغان صدر اشرف غنی آئین کی اور امارات طالبان اسلامی نظام کے قیام کی بات کرتے ہیں۔ صدر غنی انٹرا افغان بات چیت کو مایوس کریں گے کیونکہ وہ طالبان کی متعدد شرائط سے متفق نہیں۔