جھڈو، بھاری گاڑیوں کے باعث ٹریفک جام اور حادثات معمول بن گئے

206

جھڈو (نمائندہ جسارت)جھڈو کا بائی پاس روڈ مکمل ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری گاڑیوں کے اندرون شہر مین اسٹیشن روڈ سے گزرنے سے ٹریفک حادثات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹریفک جام رہنا روزانہ کا معمول بن گیا، جس پر سیاسی، سماجی و شہری حلقوں نے تشویش کا اظہار اور بھاری گاڑیوں کے مین اسٹیشن روڈ سے گزرنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جھڈو نوکوٹ اور جھڈو ٹنڈو جان محمد بائی پاس روڈ مکمل ہونے کے باوجود ڈمپر، لوڈر، ٹرک، ٹریکٹرز، گنے کی ٹرالیاں سمیت دیگر ٹریفک شامل ہے کے اندرون شہر مین اسٹیشن روڈ سے گزرنے کے باعث ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آئے روز مین اسٹیشن روڈ یا جھڈو میرپورخاص شاہراہ پر ٹریفک حادثات پیش آتے رہتے ہیں جبکہ روڈ پر تجاوزات کی بھرمار اور بھاری گاڑیوں کی آمد سے ٹریفک جام رہنا بھی روز کا معمول بن چکا ہے، جس پر مسلم لیگ ن کے رہنما اشفاق ربانی، جماعت اسلامی کے رہنما عابد الرحمن آرائیں، عوامی تحریک کے ایاز کھوسو، پی پی جھڈو سٹی کے جنرل سیکرٹری انجینئر ہمایوں قائم خانی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری عمران سردار ناگوری، سماجی رہنمائوں حاجی خورشید علی، حاجی نثار احمد قائم خانی، حنیف تاج قائم خانی، اے آر جروار، کونسلروں علی ناگوری، حاجی فضل الرحمن میمن، جھڈو پریس کلب کے سرپرست اعلیٰ خالد صدف، سابق کونسلر میر نثار تالپور، محمد صدیق کمبھار، یوتھ آف جھڈو کے جواد احمد ودیگر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی میرپور خاص سے مطالبہ کیا ہے کہ آئے روز ٹریفک حادثات کا سبب بننے والی بھاری گاڑیوں کے جھڈو میرپور خاص ہائی وے سے گزرنے پر فوری پابندی عائد، بھاری گاڑیوں کو جھڈو بائی پاس روڈ سے گزارنے کا پابند بنایا اور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ ٹریفک حادثات اور ٹریفک جام کے واقعات کی روک تھام کی جاسکے اور اس قانون پر سختی سے علمدرآمد کروایا جائے۔