ایران:کورونا سے رکن پارلیمان سمیت مزید 9 ہلاک

92

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں کورونا وائرس کے باعث رکن پارلیمان محمد علی رمضانی دستک سمیت 9 افرد ہلاک ہوگئے۔ علی دستک میں چند روز قبل ہی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ حکومت کا کہنا تھاکہ ان کی وفات فلو اور ایسے کیمیائی زخموںکی وجہ سے ہوئی جو انہیں عراق جنگ کے دوران آئے تھے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک ملک میں کورونا وائرس کے 593 کیس سامنے آئے، جن میں سے 43 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تاہم مقامی میڈیا اور دیگر طبی اداروں کادعویٰ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 210سے تجاوز کرچکی ہے۔ 24گھنٹے کے دوران 200سے زائد کیس رپورٹ ہوئے اور 9افراد دوران علاج دم توڑ گئے۔ ادھر بندر عباس شہر کے نواحی قصبے توحید کے اسپتال میں کورونا وائرس کے 10مریضوں کی موجودگی کی اطلاع پر مشتعل افراد نے اسپتال کی عمارت کوآگ لگادی۔ واضح رہے کہ 2روز قبل ہی ایران کے سابق سفیر سعید ہادی بھی کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے افریقی ممالک تک پہنچنے کے بعد بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ عالمی ادارے نے کورونا وائرس کی نئی قسم کے خطرے کو شدید ترین قرار دیا۔ ادارے کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے کہا کہ وائرس کا اٹلی سے دوسرے ممالک کی جانب منتقل ہونا انتہائی پریشانی کی بات ہے۔ انہوںنے انکشاف کیا کہ اٹلی سے 24مریضوں کے دوسرے ممالک جانے سے 14ممالک میں یہ بیماری پھیل گئی ہے۔ دوسری جانب قطری وزارت صحت کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ قطر میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آ چکا ہے جو کہ قطر ہی کا باشندہ ہے۔ 36 سالہ شہری کچھ عرصہ قبل ایران گیا تھا اور واپسی پر اس کی حالت خراب رہنے لگی۔