دلی کے خونریز فسادات کا اصل مقصد کیا ہے؟

687

 

 

دلی کے مسلم کُش خونریز فسادات کے پس پشت وہی مقصد تھا جو شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کا مقصد ہے یعنی پورے ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کردیا جائے۔ اب اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا کہ دلی کے فسادات، دراصل ملک کے عوام کو دائمی طور پر تقسیم کرکے دائمی اقتدار کے حصول کے جوئے کا پہلا پانسہ ہے۔ شہریت کے ترمیمی قانون کے جہاں اور مقاصد ہیں وہاں ایک اہم مقصد معاشرہ کو تقسیم کرنا اور مسلمانوںکے خلاف تشدد بھڑکا کر انہیں ملک دشمن ثابت کرنا ہے۔ دلی کے شاہین باغ سے لے کر پورے ملک میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف پچھلے تین ماہ سے جو احتجاجی دھرنے جاری ہیں جن میں مسلمان خواتین پیش پیش ہیں وہ نریندر مودی کے لیے سخت پریشانی کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج کا زور توڑنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں نے فرقہ وارانہ تفرقہ ڈالنے اور تشدد بھڑکانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اس حکمت عملی کا آغاز دلی اسمبلی کے انتخابات سے ہوا۔ ان انتخابات کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ نے فرقہ وارانہ بنیاد پر ہسٹریا پھیلانے کی کوشش کی اور شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو وطن دشمنی کے الزام کا نشانہ بنایا لیکن دلی کے انتخابات میں ہندووں اور مسلمانوں کی اکثریت نے اس ہسٹریے کو مسترد کردیا اور عام آدمی پارٹی کو فتح سے ہم کنار کر دیا۔
اس حکمت عملی میں ناکامی اور بھارتیا جنتا پارٹی کی خفت آمیز شکست کا انتقام لینے کے لیے شمال مشرقی دلی کے ان علاقوں میں جہاں برسوں سے ہندو اور مسلمان امن و آشتی اور بھائی چارہ کی زندگی گزار رہے تھے، بھارتیا جنتا پارٹی نے باہر سے بلائے گئے بلوائیوں کے ذریعے ان علاقوں میں بہیمانہ حملے کرائے۔ یہ بات اہم ہے کہ ان خونریز فسادات کی شروعات مصطفی آباد میں شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی دھرنے پر حملے سے ہوئی اور اسی کے ساتھ قریب میں فاروقیہ مسجد کو آگ لگا دی گئی جہاں یتیم بچوں کا مدرسہ تھا۔ مسجد میں آتش زدگی سے کچھ بچے زخمی ہوگئے اور مسجد کے امام کو گولی مار کر جاں بحق کر دیا گیا۔ قریب ہی اشوک نگر میں بڑی مسجد پر بلوائیوں نے حملہ کیا اور مسجد کے مینار پر چڑھ کر اس پر پہلے ہنومان کا جھنڈا لہرایا اور اس کے بعد مسجد میں آگ لگا دی۔ یہ واضح ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی نے دلی کے انتخابات میں شکست کا انتقام لینے کے لیے یہ فسادات برپا کیے تھے اور اب ان فسادات کا الزام اس علاقہ سے عام آدمی پارٹی کے کونسلر طاہر حسین پر لگایا جارہا ہے کہ ان کے مکان سے ہندووں پر پتھرائو کیا گیا اور پٹرول بم پھینکے گئے۔ ان پر ایک انٹیلی جنس افسر کے قتل کا بھی الزام لگایا گیا ہے جو اس علاقہ میں مردہ پایا گیا تھا۔
دلی کے ان فسادات کے پیچھے جہاں مذہب کی بنیاد پر ہندو مسلمانوں میں تفرقہ بھڑکانا تھا وہاں دلی کی برسر اقتدار جماعت عام آدمی پارٹی سے بدلہ لینا اور بدنام کرنا تھا۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ چار روز تک ان فسادات کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی۔ دلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال چیخ چیخ کر فوج طلب کرتے رہے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس دوران وزیر اعظم مودی بھی بالکل خاموش رہے اور ان فسادات کے بارے میں انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا بلکہ اچانک انہوں نے دلی ہائی کورٹ کے جج مرلی دھر کا پنجاب تبادلہ کردیا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جج مرلی دھر نے دلی پولیس کے خلاف فسادات روکنے میں نا اہلی اور ناکامی کے بارے میں درخواست کی سماعت علی الصباح ایک بجے کی تھی اور پولیس کی نااہلی پر شدید ناراضی ظاہر کی تھی اور پولیس کو حکم دیا تھا کہ فسادات میں زخمی ہونے والوں کو فی الفور اسپتال منتقل کیا جائے۔ جسٹس مرلی دھر نے بھارتیا جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست کی سماعت جمعرات کے دن مقرر کی تھی لیکن مودی حکومت نے اس سماعت سے پہلے ہی ان کا تبادلہ کر دیا۔ کپل مشرا کے خلاف الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکائی اور جلسہ عام میں مسلمانوں کو گولی مارو کا نعرہ لگایا تھا۔ واضح مقصد جسٹس مرلی دھر کے تبادلہ کا بھارتیا جنتا پارٹی کے رہنما کو بچانا ہے۔ ایک نہیں متعد د مقاصد تھے دلی کے ان خونریز فسادات کے پیچھے۔ اول مذہب کی بنیاد پر معاشرہ میں تفرقہ ڈالنا ہے۔ دوم شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کو ناکام بنانا ہے، سوم ان ریاستوں میں جہاں بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں وہاں اگلے انتخابات میں دوبارہ بھارتیا جنتا پارٹی کی جیت یقینی بنانا ہے اور یوں ملک میں ہندوتوا کا اقتدار دائمی بنانا ہے۔ بھارتیا جنتا پارٹی اس حکمت عملی میں جس تیزی سے کامیاب ہور ہی ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ دلی کے چار روزہ خونریز فسادات کے بعد شمال مشرقی دلی کے ان علاقوں میں جہاں برسوں سے ہندو اور مسلمان امن و آشتی اور بھائی چارہ کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، اب ہندووں اور مسلمانوں نے اپنے اپنے محلوں میں اپنی حفاظت کے لیے باڑھیں کھڑی کر دی ہیں۔ اور دراصل یہی مقصد تھا ان فسادات کا۔