بھارت: مسلم کش فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 69 ہوگئی

251

نئی دہلی: بھارتی شہریت کے متنازع قانون پر احتجاج کرنے والوں پر بھارتی پولیس اور ہندو انتہا پسندوں کے مظالم میں مزید اضافہ ہوگیا۔ 79 دنوں کے دوران 69 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

غیر ملکی  خبر رساں ادارے کے مطابق مسلم کش فسادات کے مختلف واقعات میں اب تک 69 افراد کی ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ مسلمانوں کے جان و مال کوبڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ مسلم خواتین کا جنسی استحصال بھی کیا جارہا ہے۔

بھارتی ریاست آسام میں 6، اتر پردیش میں 19، کرناٹکا میں 2 اور نئی دہلی میں 42 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ مسلمانوں کے گھروں اور ان کی املاک کو بھی نذر آتش کیا جارہا ہے۔

نئی دہلی پولیس، آر ایس ایس کارکنان کے ساتھ مل کر مسلمان نوجوانوں کو کھلے عام ظلم و بربریت کا نشانہ بنارہی ہے اور نماز جمعہ پر پابنی اور مساجد کی بے حرمتی بھی کی جارہی ہے۔