ملی یکجہتی کونسل نے جج فارم میں تبدیل مسترد کردی

171

کراچی( نمائندہ جسارت)ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں صوبائی کونسل کا ہنگامی اجلا س منعقد ہوا ، ملی یکجہتی کونسل نے حج فارم میں تبدیلی کو مسترد کر دیا ، کونسل نے دہلی وکشمیر میں بھارتی مظالم ، ریاستی جبر و تشدد ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ،مساجد ، مقدس مقامات کو نشانہ بنانے اور کشمیر میں مسلسل کئی ماہ سے کرفیو، مدراس کے حوالے سے اقدامات ، یکساں تعلیمی نظام کے نام پر نصاب سے اسلامی اور قرآنی مضامین کو نکالنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پرانے حج فارم واپس لائے اور حساس مسئلے پر عوام کی مذہبی عقیدت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرے۔ کونسل کے صوبائی رہنمائوں کا مزید کہنا تھا کہ حج درخواست فارم کو 2 حصوںمیں کرکے کہا جارہا ہے کہ یہ پہلا مرحلہ ہے، اس کو بھرنے کے بعد پھر دوسرا فارم جس میں ختم نبوت کا حلف نامہ ہے ، اس پر حاجی کے دستخط کرائے جائیں گے جبکہ فارم پر ایک ساتھ 4افراد کے دستخط کا کالم موجود ہے ، جس میں درخواست گزار کے دستخط بھی شامل ہیں ، موجودہ حکومت شروع دن سے ہی قادیانیوں کو نوازنے میں لگی ہوئی ہے ، حکومت کے اقدامات سے قادیانی بھی مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر پہنچ سکتے ہیں ،اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے2019ء کا حج فارم بحال رکھا جائے اور ختم نبوت کا حلف نامہ اسی انٹر ی فارم میں درج کیا جائے۔ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں صوبائی صدر اسداللہ بھٹو، جنرل سیکرٹری قاضی احمد نورانی، محمد حسین محنتی ،مولانا عبد الوحید ، سید عقیل انجم قادری ، برجیس احمد ، مولانا کلیم اللہ نعمان ، مولانا ساجد جعفری ، اصغر شہیدی ،مولانا عابد رضا عرفانی ، عمران احمد سلفی ، حشمت اللہ صدیقی ، راجا عارف سلطان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ صاحبزادہ ابو الخیر نے کہا کہ حج فارم میں تبدیلی سمیت دیگر اقدامات ملک کو سیکولر اور لبرل بنانے کی سازش ہے ، ملک کے اندر سیکولر اور لبرل لابی کی سازشوں کا مقابلہ کر نے کے لیے اتحادو یکجہتی کی ضرورت ہے اور مشترکہ جدو جہد سے ہی ہم سیکولر اور لبرل لابی کی سازشوں کو ملک کے اندر ناکام بنا سکتے ہیں، ہر آنے والے دن کے ساتھ دینی طبقے کی آزمائش میں اضافہ ہورہا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پر دبائو ڈالنے کے لیے سب مذہبی جماعتوں کوایک پیج پر لائیں ، مذہبی جماعتیں جب بھی متحد ہوئی ہیں ، کامیابی حاصل کی ہے ۔ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی مغرب کی آلہ کا ر ہیں ۔ ملی یکجہتی کونسل صوبہ سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ حج فارم میں تبدیلی کرکے ملک کے اندر سیکولر اور لبرل عناصر کی کوششوں اور عالمی دباؤ کے ذریعے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کی فضا ہموار کی جارہی ہے، ملک کے عوام اور علما کرام ملکر ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے، مساجد و مدارس ملک کے نظریاتی تشخص اور سلامتی کے محافظ ہیں، ان کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،یکساں نظامِ تعلیم کے نام پر اسلامی تعلیم ، نظریاتی تشخص اور تہذیب کو نصاب سے نکال کر نوجوان نسل کو اپنے مذہب اور تاریخ سے دور کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ جنرل سیکرٹری قاضی احمد نورانی نے کہا کہ مودی بھی اسرائیل کی پالیسی اپنا رہا ہے ، وہ بھارت میںایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ وہاں پر صرف ہندو آباد رہ سکیں ، خواتین مارچ پر قابل اعتراض بینرز اور تقایر پر ہمیں بغاوت کا مقدمہ درج کروانا چاہیے ۔ محمد حسین محنتی نے کہا کہ موجودہ حکومت فارم میں تبدیلی کرکے قادیانیوں کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے ، اس مسئلے پر بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ، یکساں تعلیمی نظام کے نام پر نصاب میں اسلامی تعلیمات کو نکالا جا رہا ہے ، جس کے لیے مرکزی حکومت نے سندھ حکومت کو بھی راضی کر لیا ہے اور اپریل 2021ء سے نافذ کیا جائے گا ، حکومت پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے معاہدے کی روشنی میں بھارت اور کشمیر کے مسلمانوں کے اوپر مظالم کے خلاف آواز بلند کرے ، معاہدے میں واضح درج ہے کہ جب بھی بھارت میں مسلمانوں پر مظالم ہوں گے ، پاکستان اس کے خلا ف آواز بلند کرے گا ،اسلام نے عورت کی حفاظت کے لیے حجاب اور پردے کا حکم دیا ہے ، آزادی کے نام پر ملک میں فحاشی پھیلائی جا رہی ہے ۔