سجاول، دیوان شوگر مل اچانک بند، کاشتکاروں کی رقم پھنس گئی

285

سجاول (نمائندہ جسارت) سجاول ضلع کی دیوان شوگر ملز انتظامیہ نے بغیر اطلاع کے اچانک فیکٹری بند کردی۔ صرف 45 دن کے کریشنگ سیزن میں کاشتکاروں کو گنے کے کروڑوں روپے کے بقایا جات کرکے ملز مینجمنٹ غائب ہوگئی، کروڑوں روپے کے چیک بھی بائونس ہوگئے۔ گنے کے کاشتکار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ کاشتکاروں کے 80 کروڑ روپے ڈوبنے سے ضلع سجاول کے کاشتکار مالی بحران کا شکار۔ کاشتکاروں کو دیے گئے چیک کاشتکار بینکوں کا چکر لگانے لگے۔ وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ سجاول ضلع کی دیوان شوگر ملز کی ہٹ دھرمی جاری ہے، کریشنگ سیزن میں اچانک شوگر مل بند کرنے سے سجاول ضلع کے کاشتکاروں کے کروڑوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ہوگیا ہے۔ ملز انتظامیہ کی طرف سے دیے گئے چیک بھی بائونس ہوگئے۔ اس سلسلے میں شاہ بندر تحصیل کے کاشتکاروں لیاقت جمالی، ذوالفقار لاشاری، ممتاز میمن، سہیل جمالی، اللہ بخش میمن، خالد آرائیں سمیت کاشتکاروں نے صحافیوں کو بتایا کہ دیوان شوگر مل نے کاشتکاروں کو تباہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف گزشتہ تین سال کے گنے کے بقایا جات ادا تو نہیں کرسکے ہیں پر ایک بار پھر نااہل انتظامیہ نے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کو چونا لگا دیا۔ اچانک شوگر مل بند کرنے سے مل انتظامیہ کی طرف سے دیے گئے چیک بھی کئی دنوں سے بائونس ہوگئے ہیں، جس کے باعث ہم کاشتکار پریشانی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سجاول ضلع کے کاشتکاروں کو مسلسل تین سال سے 80 کروڑ روپے سے زائد رقوم کی بقایا جات سے مالی بحران کا شکار ہیں۔ ملز انتظامیہ رات کے اندھیرے میں چینی بھی لے گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ دیوان شوگر ملز پر کاشتکاروں کے بقایا جات دلا کر کاشتکاروں کو مالی بحران سے بچایا جائے۔