بڑے چوروں کوپکڑنے سے بجلی سستی ہوجائے گی،وزیراعظم

144

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بڑے چوروں کو پکڑنے سے بجلی سستی ہوجائے گی۔ بجلی چوروں کو پکڑنے پر خصوصی توجہ دی جائے، گٹھ جوڑ اور منافع خوری کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، موجودہ مالی سال کے دوران عوام کو منی بجٹ سے محفوظ رکھنا اہم کامیابی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کم آمدنی والے شہریوں کے لیے سبسڈی سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا۔حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 300 سے کم یونٹس بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے اس سال 162 ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے، توانائی کے شعبے میں مجموعی طور پر251 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، سبسڈی کا بنیادی مقصد عوام خاص طور پر کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف پہنچانا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا سبسڈی اور مالی سپورٹ کی فراہمی کا مقصد کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتی معاشی پالیسیوں اور ان کی سمت پراعتماد کیا ہے، موجودہ مالی سال کے دوران عوام کو منی بجٹ سے محفوظ رکھنا اہم کامیابی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ گٹھ جوڑ اور ناجائز منافع خوری کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چند ہزار روپے بل دینے والے بجلی چوروں سے کروڑوں روپے ریکور کرلیے گئے ہیں اور اب بھی کریک ڈائون جاری ہے اور ہزاروں افراد کیخلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کا خمیازہ غریب عوام کسی صورت برداشت نہیں کرے گی، بڑے بجلی چوروں کو کسی صورت نہ چھوڑا جائے۔ حکومت غریبوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔وزیراعظم عمران خان نے حکام کو مزید ہدایت کی کہ سیاسی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر غریب کا تحفظ کریں، سابقہ ادوار حکومت میں بجلی چوری کرنے والوں سے رعایت برتی گئی، بڑے چوروں پر ہاتھ ڈالنے سے بجلی سستی ہونے کا موقع ملے گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سیکریٹری خزانہ ، گورنر اسٹیٹ بنک سید رضا باقر و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔وزیراعظم عمران خان کو معاشی اعشاریوں بشمول کرنٹ اکاو?نٹ خسارہ، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ، بیرون ملک سے ترسیلات زر اور مہنگائی کی شرح کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ مجموعی طور پر معاشی اعشاریوں میں بہتری کا رجحان ہے، ہفتہ وار ایس پی آئی میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے اور اس میں مزید کمی کی توقع ہے۔معاشی اعشاریوں میں بہتری پر اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی کو میسر آئیں، ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے فروغ نسیم کو لوٹی دولت واپس لانے کا ٹاسک سونپ دیاہے، وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک دولت کا پتا لگایا جائے اور رقم کی واپسی کا طریقہ کار وضع کیا جائے، کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران سے وزیرقانون فروغ نسیم نے ملاقات کی۔جس میں لوٹی دولت کی واپسی کیلیے اہم قانونی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے فروغ نسیم کی کارکردگی کو سراہا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آپ محنت کررہے ہیں آپ کیساتھ کھڑا ہوں۔ میرے ساتھ پوری کابینہ بھی آپ کے ساتھ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بطوروزیرقانون آپ حکومت کی بہترین نمائندگی کرسراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوٹی دولت ہر حال میں پاکستان واپس لائی جائے۔کرپشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لوٹی دولت کی واپسی کے راستے میں جتنی بھی قانونی پیچیدگیاں ہیں ان کو فوری دور کیا جائے۔ وزیراعظم نے فروغ نسیم کو ہدایت کی کہ بیرون ملک دولت کا پتا لگایا جائے اور رقم کی واپسی کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔