دہلی میں 42 ہلاکتیں ،بھارت مسلمانوں پر تشدد اور پابندیوں سے گریز کرے،سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

79

نیویارک/ڈھاکا(اے پی پی+صباح نیوز) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر ہندو بلوائیوں کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 42ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمان مظاہرین پر تشدد اور پابندیوں سے گریز کرے ۔انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے گاندھی کے نظریے پر عمل درآمد کیا جائے، اس وقت نئی دہلی کے حالات اور حقیقی معاشرتی مفاہمت کے لیے گاندھی کے نظرے کو حقیقی معنوں میں لاگو کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں ہونے والے تشدد کے واقعات پر بہت افسردہ ہوں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے 6ماہ سے جابرانہ محاصرہ کی زد میں آئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور نئی دہلی میں بڑھتے ہوئے مسلم مخالف تشدد کو بھی تشویشناک قرار دیا ہے جہاں پرمتنازع شہریت ایکٹ کے خلاف پرامن احتجاج کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق معطل ہیں اور نئی دہلی میں آزادی اظہار رائے کو کچلا جارہا ہے۔ انہوں نے بھارتی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ بہت بڑی تعداد میں بھارتیوں اور تمام جماعتوں کے افراد نے متنازع قانون کی مخالفت کی ہے اور سیکولرازم کی ملک کی طویل روایت کی حمایت میں پر امن انداز میں احتجاج کیا ہے۔انسانی حقوق کی سربراہ نے ہندو گروہوں کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف حملوں کی صورت میں پولیس بے حسی اور ہندوؤں کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کو افسوسناک قراردیا ۔ انہوں نے پولیس کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کے استعمال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ذریعے طاقت کے زیادہ استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کو دور کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔دوسری جانب بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے خلاف شدید احتجاج کیا اور مودی مخالف نعرے لگائے گئے جبکہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے دورہ بھارت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے پیچھے بھارتی حکومت کا ہاتھ ہے جو مسلمانوں اور ہندوں کو آپس میں لڑوا رہی ہے۔ بنگلا دیشی دارالحکومت میں مظاہرین کی طرف سے احتجاج کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے جبکہ مودی مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔مظاہرین نے کہا کہ بنگلا دیشی وزیراعظم اپنا دورہ منسوخ نہیں کرتیں تو ہم بزور طاقت یہ دورہ منسوخ کروائیں گے اور ائر پورٹ کا گھیرا کریں گے۔