نئی دہلی ،سخت پہرے میں نماز جمعہ کی ادائیگی

152
دہلی: ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں نذرآتش ہونے والی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جارہی ہے‘ مسلمان عمائدین پولیس افسران سے گفتگو کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جاری فسادات کے دوران مسلمانوں نے گزشتہ ر وز سخت پہرے میں نماز جمعہ ادا کی۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیر کے روز ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں جلائی گئی مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران بلوائیوں کے حملوں کا خطرہ رہا، جس کے پیش نظر سیکورٹی کا سخت انتظام کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی سرکارکی جانب سے انتہاپسندوں کی پشت پناہی کی جارہی ہے اور دارالحکومت میں مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ سخت پہرے میں نماز ادا کرنے والے بھارتی مسلمانوں کو ہر لمحہ خطرہ رہا کہ ان کے محافظ ہی کہیں حملہ نہ کردیں۔ اس موقع پر تعینات رضاکاروں نے نمازیوں کو تاکید کی کہ نماز کے فوراً بعد اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ خطے کے دوران امام مسجد نے نمازیوں کو نصیحت کی کہ یہ آزمایش کا وقت ہے اور بھارت میں مسلمانوں کو اس پر صبر کرنا چاہیے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق نماز کے دوران قریبی علاقے مصطفی آباد سے ہندو بلوائیوں کے حملے کا خطرہ تھا کیوں کہ ہندو اکثریتی علاقے شیو وہار میں شدت پسندوں نے ایک مسجد کی طرف جانے والے راستے کو بند کرکے موٹر سائیکلیں بھی جلادی تھیں۔ دوسری جانب گزشتہ کئی روز سے جاری قتل و غارت گری کے دوران نئی دہلی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 42 ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دہلی کے گرو تیغ بہادر اسپتال میں 38، لوک نائیک اسپتال میں 3 اور جگ پروریش اسپتال میں ایک شخص ہلاک ہوا جب کہ سیکڑوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز تعینات ہیں جب کہ پولس نے فسادات کے مقدمات درج کرنا شروع کردیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق مختلف تھانوں میں 123 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں اور اب تک 630 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت نے دہلی پولیس کے سربراہ امولیا پاٹنائیک کو تبدیل کردیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق دہلی میں فسادات پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث امولیا پر شدید تنقید کی جا رہی تھی۔