بھارت بھی طالبان سے پینگیں بڑھانے کا خواہاں

152

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور طالبان کے مابین دوحہ میں آج ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں بھارت اپنا ایک سفیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ ماضی میں بھارت نے افغانستان میں طالبان کو نہ کبھی تسلیم کیا تھا بلکہ نئی دہلی حکومت نے ہمیشہ ان کی مخالفت کی تھی، تاہم افغانستان کی بدلتی صورت حال کی وجہ سے بھارت نے طالبان کے ساتھ پینگیں بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے موقف پر واضح یو ٹرن لیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق قطر کی جانب سے تقریب میں شرکت کے لیے دعوت نامہ بھیجا گیا تھا اور اس معاملے پر اعلیٰ قیادت سے صلاح مشورے کے بعد دوحہ میں بھارتی سفیر کو تقریب میں شریک ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ دوحہ میں طالبان کے ساتھ کسی بھی اجلاس میں بھارتی نمایندے کی موجودگی کا یہ پہلا موقع ہوگا۔ خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی دہلی حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ہے اور اب وہ طالبان سے اپنے روابط استوار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ جنوبی ایشیائی امور کے ماہر قمر آگا کے مطابق حکمت عملی کے اعتبار سے افغانستان بھارت کے لیے بہت اہم ہے اور اُس نے بہت کچھ داؤ پر گلا رکھا ہے، جس کا وہ تحفظ چاہتا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے طالبان سے روابط کے سوا بھارت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔