کورونا وائرس : امریکی اسٹاک مارکیٹ 9سال کی بد ترین سطح پر 30 ارب ڈالر کا خسارہ

84

 

واشنگٹن(کامرس ڈیسک)کورونا وائرس کے باعث دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ 9 سال کی بدترین سطح پر گرگئی۔امریکا کی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل چھٹے دن شدید مندی کا رجحان رہا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے اربوں ڈالر ڈوب گئے ہیں۔امریکی اسٹاک مارکیٹ 9 سال کی بدترین سطح پر گرگئی، جب کہ ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ 4.4 فیصد گرگیا، جب کہ دنیا بھر کی ائیر لائنز کو مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، صرف ایشیائی ممالک میں آنے والی پروازیں منسوخ ہونے سے کمپنیوں کو 27 ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے امریکی کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ ہی حالات برقرار رہے تو کمپنیوں کے منافع میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ دوسری جانب کیلی فورنیا کے گورنر کا کہنا ہے کہ 33 افراد کے ٹیسٹ مثبت آگئے ہیں۔ ان میں 5 افراد ریاست سے جاچکے ہیں، جب کہ مختلف کمرشل پروازوں سے آنے والے 8400 افراد کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ کیلی فورنیا میں کورونا وائرس کا پہلا مقامی کیس رپورٹ ہوا تھا، جب کہ دیگر شہروں اور اسٹیٹس میں بھی مختلف پروازوں سے امریکا آنے والوں کی اسکینگ جاری ہے۔دوسری جانب کورونا وائرس کے اثرات کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں بھی مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جہاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 52 ڈالر 45 سینٹ ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ کم ہوگئی ہے۔ایک سال پہلے یہ قیمت 75 ڈالرفی بیرل تھی۔ 12 ماہ میں خام تیل 23 ڈالرفی بیرل یعنی 30 فیصد سے زائد سستا ہوا ہے۔ گزشتہ 2 ماہ کے دوران بھی خام تیل 17 ڈالر فی بیرل سستا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمت میں چین میں تیل کی طلب کم ہونے کے باعث کمی ہوئی۔