تجھے یاد کرے گی دنیا

330

اس جہان رنگ و بو میں ہر شخص اپنے من میں کوئی نہ کوئی مراد لے کر اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ کامیابی وہ شے ہے جس کی تمنا ہر شخص کرتا ہے۔ مگر کامیابی کیسے حاصل کی جائے؟ یہ اس دنیا کا سب سے بڑا معما ہے کوئی بھی شخص غیر اخلاقی یا غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے بغیر اعلیٰ مقام نہیں پا سکتا کسی بھی مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دو عوامل کا کردار کلیدی ہوتا ہے: اول انسان کی محنت اور دوم قسمت‘ کامیابی کے حصول کے لیے نصف کردار محنت ادا کرتی ہے جبکہ باقی ماندہ نصف قسمت ادا کرتی ہے کے ممتحن کوئی اور نہیں بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے جو رویوں اور نتیوں سے واقف ہے کامیابی حاصل کرنے کا واحد جائز اور اخلاقی طریقہ یہی ہے کہ خلق خدا کو یاد رکھیے لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کیجیے۔ ان کے ساتھ محبت سے پیش آئیے۔ ان کی مدد کیجیے۔ آپ کے یہ اعمال آپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا قرب عطا کریں گے اس کا نتیجہ آپ کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا اور پھر کامیابی کے دروازے آپ کے لیے کھلتے چلے جائیں گے‘ نعمت اللہ خان‘ بے مثال ناظم کراچی بھی خلق خدا کو یاد اور لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہوئے نظامت کراچی نبھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں…
کراچی کی تاریخ میں جمشید نوسرونجی مہتا سب سے پہلے میئر گزرے ہیں‘ یہ پارسی تھے‘ ان کے بعد مسلمان اور عیسائی میئر بھی آئے‘ کراچی کی میئر شپ کے لیے ایک مختصر جائزہ یہ ہے کہ 1934 سے 1962 تک ایک دور ہے اسے پہلا مرحلہ بھی کہہ سکتے ہیں‘ اس دور میں پارسی‘ مسلمان اور عیسائی اور کاروباری طبقے کے لوگ میئر منتخب ہوتے رہے‘ 1979 میں عبدالستار افغانی میئر بنے اور اس کے بعد کراچی کی سیاسی تاریخ میں بہت رنگ بدلے ہیں‘ نعمت اللہ خان تعمیر کراچی اتحاد گروپ کے پلیٹ فارم سے کراچی کے ناظم منتخب ہوئے‘ طارق حسن ان کے نائب ناظم تھے‘ کراچی ایک زمانے میں دنیا کا خوبصورت اور صاف ستھرا شہر تھا‘ 1940 میں یہاں آنے والے چینی باشندوں نے کہا تھا کہ کاش شنگھائی بھی اتنا خوبصورت اور صاف ستھرا شہر بن جائے‘ شنگھائی چین کی بند گاہ ہے‘ اور اس زمانے میں بحری جہاز ہی غیر ملکی سفر کا ذریعہ تھے بہر حال یہ تاریخ تاریخ ہی ہوتی ہے… کراچی کے شہری اب یہ حسرت کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کاش کراچی دنیا کا نہ سہی پاکستان ہی کا چلیے صوبہ سندھ ہی کا صاف ستھرا شہر بن جائے۔
نعمت اللہ خان کی نظامت کا دور اگست 2001 سے مئی2005 تک رہا‘ اس دوران ان کی دن رات کی محنت سے کراچی کی کچھ شکل نکل آئی‘ لیکن ان کے جانے کے بعد کراچی باقاعدہ رویا‘ مجھے یاد ہے کہ دو ہزار آٹھ میں کراچی شہر کی بدترین اور ہلاکت خیز بارش ہوئی کہ ہلاکتوں کی تعداد سو سے زائد تھی بیش تر افراد کرنٹ لگنے یا ہورڈنگز گرنے کے سبب جان سے گئے اس کی سب سے اہم وجہ کے الیکٹرک کا ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کو نوازنا تھا اور شہریوں کی بد احتیاطی بھی تھی کچی آبادیاں، نالوں پہ پکی تعمیرات اور نیم دلی سے بنائے گئے ڈیم سرکاری اداروں کی رشوت ستانی کے عوض خاموشی سیاسی مفادات، ان سب نے مل کر نعمت اللہ خان کے اس شہر کو کہیں کا نہ چھوڑا، ایک بار بارش میں تو عارف علوی تین فٹ پانی میں تیرہ فٹ طویل کشتی لے کر اتر گئے تھے لیکن آج کل وہ کراچی کے بارے میں سوچتے ہیں؟ کچھ معلوم نہیں… آج کراچی کا حسن اور تحریک انصاف دونوں غائب ہیں شہر قائد کے دکھڑے سننے والا دنیا سے رخصت ہوگیا ہے بس اب کیا ہوگا کہ کراچی کا کچرا عالمی ریکارڈ قائم کرے گا یہاں صفائی مہم کے لیے دفعہ 144 لگائی گئی لیکن صفائی نہیں ہوسکی یہاں صرف کچرا اٹھانا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ جگہ جگہ کچرا پھینکنا اور کچرے کا ڈھیر لگانا بھی ایک مسئلہ ہے کہا جاتا ہے کہ دو کروڑ کی آبادی والے شہر کراچی میں یومیہ تقریباً ساڑھے چودہ ہزار ٹن کچرا نکلتاہے جس میں سے صرف آٹھ سے دس ہزار ٹن اٹھایا جاتا ہے باقی کا چار یا پانچ ہزار ٹن ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ کراچی سے نکلنے والے یومیہ ساڑھے چودہ ہزار ٹن کچرے سے 250 میگا واٹ بجلی پیدا کر کے عوام کو سستی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے سستی بجلی ملنے کے ساتھ ساتھ کچرے کی صفائی کے بعد شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا لیکن یہ بات ذہن میں رکھ لیں کہ اب کوئی نعمت اللہ خان نہیں ہے جو یہ کام کرتا۔
کراچی میں پانی کا بحران تھا‘ نعمت اللہ خان ایک منصوبہ لے کر آئے تھے‘ ان کی مدت مکمل ہوئی یہ منصوبہ بھی اب کچرے کے ڈھیر میں کہیں گم ہوچکا ہے لوٹ مار کا اعشاری نظام قائم کرنے والوں نے شہرکراچی کے زیر زمین پانی کو بھی نہ بخشا، صنعتی یونٹس نے زیر زمین پانی کو چوس کر پانی کو زمین کے اس قدر اندر پہنچا دیا ہے کہ عام علاقوں میں پانی کے لیے بورنگ کی گئی سطح تین سو سے پانچ فٹ تک جا پہنچی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کچھ جھنجھوڑا ہے یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور رہے گا کہ نعمت اللہ خان کو کبھی کسی عدالت نے اس طرح طلب نہیں کیا تھا کہ وہ تو اللہ اور اللہ کی مخلوق کے لیے ایسے کام کرتے تھے جیسے وہ پیدا ہی اس لیے کیے گئے ہیں ان کی نظامت کے بعد شہری نظام معلق ہو کر رہ گیا ہے شہر کے 70 فی صد علاقوں میں پانی کا بحران ہے بلدیہ، سرجانی، اورنگی، نیوکراچی اور سائٹ میں کسی بھی وقت لاوا پھٹ سکتا ہے مفت ٹینکر سروس اور ہائیڈرینٹس کراچی کے متاثرہ علاقوں کو پانی کی ضروریات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں، ہائیڈرینٹس لبالب پانی سے بھرے رہتے ہیں جہاں سے پانی ٹینکر مافیا بھر بھر کر چاندی کو سونا بنانے میں مصروف ہے … کہ اب کوئی نعمت اللہ خان نہیں ہے۔