بھارتی رکاوٹوں کے باوجود افغان امن معاہدہ بڑی کامیابی ہے ، شاہ محمود قریشی

228

 

دوحہ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بھارتی کوششیںناکام ہو گئیں۔آج ہفتہ29 فروری کو امریکا طالبان کا امن معاہدہ انٹرا افغان مذاکرات کیلیے راہ ہموار کر ے گا، ہم افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔ جمعہ کو دوحہ میں افغان مفاہمتی عمل اور بھارت کی صورتحال پر بیان اور افغان میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ 29 فروری کا دن افغانستان اور افغان عوام کیلیے
بڑ ا دن ہے، بھارت نے افغان امن معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی ہر ممکن کوششیں کیں، اس کے باوجود اگر یہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ انشاء اللہ افغانستان امن اور مفاہمت کی جانب بڑھ رہا ہے، ہم افغانستان میں امن و استحکام اور ترقی چاہتے ہیں۔ 29 فروری کو طالبان امریکا امن معاہدہ انٹرا افغان مذاکرات کیلیے راہ ہموار کرے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلیے آ ج دنیا پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہی ہے، پاکستان نے افغان امن عمل کیلیے مخلصانہ کوششیں کیں۔ امید ہے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں مختلف ممالک کے وزراء خارجہ سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ پاکستان کو دعوت دی گئی کہ وہ اس سارے عمل کا حصہ بنے اور شرکت کرے، پاکستان کیلیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے اور پاکستان کی کوششوں کا اعتراف ہے، یہاں اس وقت اس معاہدے کی تقریب کی کوریج کے پوری دنیا کا میڈیا موجود ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں اس وقت دو موضوع زیر بحث ہیں، ایک امن معاہدہ اور دوسرا دلی کی تشویشناک صورتحال پر بات ہو رہی ہے، دلی میں مسلمانوں نسل کشی کی جو صورتحال دنیا کو ابھرتی دکھائی دے رہی ہے وہ بھی زیر بحث ہے۔ فارن ریلیشنز کمیٹی کے جو اہم ممبران ہیں وہ اس پر اپنی تشویش کا اظہار اور دنیا کے دانشور، اداکار اور گلوکار اس پر بات کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا تشخص ابھر رہا ہے اور بھارت کا نیچے جا رہا ہے، جب ہماری حکومت وجود میں آئی تو بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کیا جائے، بھارت کو اس پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔آ ج پاکستان کا عالمی سطح پر کردار مرکزی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کی سرتوڑ کوشش کی، اس پر بھی بھارت کو ناکامی ہوئی۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ بھارت کا سیکولر چہرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی موجودگی میں دلی کے کچھ علاقوں میں کرفیو کا سماں تھا، فوج گشت کر رہی تھی اور پولیس کا سہارا لے کر آ ر ایس ایس کے غنڈے املاک جلا رہے تھے، وہ مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور مساجد پر اپنے جھنڈے لگارہے تھے۔