بھارت میں مذہبی فسادیوں کو تشدد رکا جائے ،امریکا

150

واشنگٹن(خبر ایجنسیاں)بھارت میں مذہبی فسادیوں کو تشدد کرنے سے روکا جائے۔ امریکا۔ تفصیلات کے مطابق امریکا نے بھارت پر زور دیا ہے کہ جو لوگ مذہبی فسادات کے پیچھے ہیں وہ خود کو تشدد سے دور رکھیں۔امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی وسطیٰ ایشیائی امور ایلس ویلز نے ٹوئٹ میں کہ نئی دہلی میں مقتولین اور زخمیوں کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے امن کی بحالی کا تقاضا کرتے ہیں۔ایلس ویلز نے زور دیا کہ تمام فریق امن برقرار رکھیں اور تشدد کا راستہ اپنانے سے گریز کریں۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت کے ساتھ ہی نئی دہلی میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے۔سوشل میڈیا پر وائرل متعدد ویڈیوز اور تصاویر میں
دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو توا کے حامی مشتعل لوگوں نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا اور مساجد سمیت گھروں کو نذر آتش کردیا۔ایک ویڈیو میں پولیس کی موجودگی واضح نظر آرہی ہے لیکن وہ مشتعل آر ایس ایس کے کارکنوں کو روکنے میں بے بس رہی۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ اور خوفناک تشدد کی مذمت کی۔او آئی سی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘او آئی سی نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ اور خوفناک تشدد کی مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں بے گناہ افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے اور مساجد اور مسلم ملکیت کی املاک کو توڑنے اور توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔او آئی سی نے ان گھناؤنی کارروائیوں کے متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔او آئی سی نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلم مخالف تشدد کے ذمہ دار افراد کو دائرہ قانون میں لائے اور پورے ملک کے مسلم شہریوں کے ساتھ پورے بھارت میں اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائے۔دہلی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہونے والے ان بدترین فسادات میں منظم گروپوں نے مساجد، مزاروں، دکانوں اور مسلمانوں کی دیگر املاک کو نذر آتش کیا۔بدھ کو عالمی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے اپنے بیان میں نئی دہلی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی میں ہونے والے تشدد اور مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے مداخلت نہ کرنے کی خبریں انتہائی پریشان کن ہیں۔