چین سے کیمیکلز اینڈ ڈائز کی درآمد کی اجازت دی جائے ، سائٹ ایسو سی ایشن

132

 

کراچی(بزنس رپورٹر)سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سرپرست زبیر موتی والا نے ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل ٹیکسٹائل انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کے لیے وزیراعظم عمران خان، وزیرخزانہ اور وزیر تجارت سے فوری طور پر چین سے کیمیکلز اینڈڈائز کی درآمدات کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے جو کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کا بنیادی خام مال ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سے خام مال کی درآمد رکنے سے خام مال کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے جس سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ ہوتا جارہاہے اور خدشہ ہے کہ برآمدکنندگان برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل نہیں کرپائیں گے۔زبیر موتی والا نے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان کی چین سے درآمدات 12ارب ڈالر ہے جو زیادہ تر کیمیکلز اینڈ ڈائز پر مشتمل ہے اور یہ پاکستان میں سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کا بنیادی خام مال ہے۔ چین کی بندرگاہوں پر پھنسے کنسائمنٹس کی وجہ سے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ متبادل سپلائرز جن میں کوریا، تائیوان ، بھارت شامل ہیں ان ملکوںنے یاتو خام مال کی سپلائی روک دی ہے یا پھر30سے35فیصد زائد قیمتوں کا تقاضہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ صنعتکاوں نے یہ شکایت کی ہے کہ خام مال کی قلت کی وجہ سے صنعتوں کے لیے پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے جبکہ مقامی مارکیٹ میں خام مال کی قیمتوں میں بھی 50 سے 100 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ان حالات میں برآمدات میں اضافہ مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بقا کا سوال بن گیا ہے۔ ہر کوئی ملکی برآمدات میں اضافے کی بات کررہاہے لیکن سچ یہ ہے کہ خام مال کے بغیر پیداواری سرگرمیاں جاری نہیں رہ سکتیں۔انہوں نے بتایا کہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر میں فیبرک کی فنشنگ سے پروسیسنگ کا عمل مکمل ہونے تک کافی مقدار میں کیمیکلز اینڈ ڈائز درکار ہوتاہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کیش فلو میں رکاوٹوں کی وجہ سے کوئی بھی ایک یا2ماہ سے زیادہ انوینٹری نہیں رکھتا کیونکہ برآمدکنندگان کی خطیر رقم سیلز ٹیکس ریفنڈ میں پھنسی ہے نیز ہر آئٹم بیک وقت استعمال نہیں ہوتا بلکہ کچھ وقت میں ایک آئٹم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کچھ دیگر آئٹمز جو اسٹاک میں موجود ہوتے ہیں ان کی ضرورت نہیں پڑتی۔سرپرست سائٹ ایسوسی ایشن نے مزید کہاکہ برآمدی آرڈرز سیزن کے لحاظ سے کم از کم 6 ماہ کے لیے ہوتے ہیں لہٰذا اگر خام مال کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے اور ساتھ ہی خام مال کے کنسائمنٹس کی بروقت کلیئرنس نہ ہو تو پیداواری سرگرمیاں رکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں جس سے ظاہر ہے کہ برآمدکنندگان کسی صورت بھی اپنے برآمدی آرڈرز کی بروقت ڈلیوری نہیں دے پائیں گے جو برآمدکنندگان کے لیے شدید مالی نقصانات کا باعث بنے گا۔